23 جنوری 2026 - 17:59
اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18سال سے کم عمر جوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے کہاکہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ دباؤ میں ہیں۔

جس پر اسپیکرقومی اسمبلی نے جواب دیا کہ یہ ایسی کرسی ہے جس سے نہ حکومت خوش ہوتی ہے نہ اپوزیشن۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ میں18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں، اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18سال سے کم عمر جوانوں کی شادیاں کراؤں گا، میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرارہا ہوں، ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں۔

غزہ امن بورڈ سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  اگرپیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو آپ کیوں گئے، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہا ہے، ٹرمپ حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے ، امریکا نے افغانستان، عراق،لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا،  اسرائیل کے پہلے صدر نے کہا تھا ہماری اساس ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگا، ارادے واضح ہیں۔

انہوں نے تنقید کی کہ ایسے فورم میں جا رہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہو رہا ہے، پاکستان کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے، ہمیں امن چاہیے لیکن کوئی اصول ہوتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہرطرف معاشی ترقی ہورہی ہے، صرف پاکستان ڈوب رہا ہے، وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha