ابنا: کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں چھ افراد کے قتل کا سبب بننے والی ویک اینڈ ڈانس پارٹی علاقائی انتظامیہ کی اجازت سے منعقد کی جارہی تھی۔ تاہم پولیس کا کردار خاموش تماشائی کا تھا۔ پولیس کے مطابق ڈانس پارٹی کے لئے بنگلہ اس کے آرگنائزر فیصل نے ناصر سے ایک رات کے لئے بیس ہزار روپے کرایہ پر لیا۔ سیکیورٹی کی ذمے داری فنکشنل لیگ کے عہدیدار عارف راجڑ کے پاس تھی۔ پولیس کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نواب طالع بگٹی اور ان کے بھائی کامران بگٹی فیصل کی جانب سے مدعو تھے یہ دونوں مہمان پارٹی میں اپنی نشستوں بیٹھ چکے تھے کہ ان کیچار دوستوں اور چار گارڈز نے بھی پارٹی میں آنے کی کوشش کی تو جھگڑا ہوگیا۔ ان میں سے ایک شخص زاہد بٹ سیکورٹی کے عملے سے مارپیٹ کے بعد پارٹی میں گھس گیا اور مشتعل ہوکر مننظمین سے بدکلامی کی۔ ہلڑبازی کے دوران ساوٴنڈ سسٹم توڑ دیا اور ایک مہمان کو بوتل ماردی۔ جس پر پارٹی میں شریک ڈاکٹر اقبال عرف ڈاڈا نے بدمعاشی کرنے پر اس پر فائرنگ کردی۔ پولیس کو دیئے گئے عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق اپنے خاص آدمی زاہد بٹ کے فائرنگ سے زخمی ہونے پر طالع بگٹی نے ڈاکٹر اقبال پر فائرنگ کردی۔ اس دوران ڈاکٹر اقبال نے طالع بگٹی پر گولی چلا دی۔ یوں فلمی طرز کے سین میں دونوں افراد ایک دوسرے پر چلائی گئی گولیوں سے موت کا شکار ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس دوران منتظمین کے ساتھی کامران گل عرف مون نے بھی فائرنگ کی جبکہ دونوں گروپوں کے سیکورٹی گارڈز کی جانب سے بھی دو طرفہ فائرنگ جاری رہی۔ جس کے نتیجے میں کامران عرف مون، دو ویٹر کامران شفیع اورمارک جوزف موقع پر ہلاک اوردس افراد زخمی ہوگئے، دو خواتین سمیت اتنے ہی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے بنگلہ سیل کر دیا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے سلسلے میں پولیس دن بھر دونوں فریقوں کا انتظار کرتی رہی مگر لگتا ہے کہ بنگلہ نمبر ون ٹو ون میں دو گروپوں ہونے والی ون ٹو ون لڑائی میں دونوں فریق کی داڑھی میں تنکا تھا کیوں کہ کوئی مقدمہ درج کرانے تھانے نہیں آیا۔ جس پر دن بھر سر جوڑے بیٹھی پولیس نے سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 192 زیر دفعہ 302،324، 147، 148، 149 درج کرلی۔ ایف آئی آر کے مدعی گزری تھانے کے اس علاقے کے بیٹ انچارج سب انسپکٹر سعید بنے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تین ملزم طالع بگٹی، ڈاکٹر اقبال عرف ڈاڈا اور کامران عرف مون ایک دوسرے پر کی گئی فائرنگ میں مارے گئے۔ اس تمام کارروائی کے بنیادی کردار زاہد بٹ اور دوسرے ملزم وسیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ تین ملزمان فرار ہیں جن کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ پولیس نے سات عینی شاہدین کے بیانات حاصل کرلئے ہیں۔ جائے واردات سے ملنے والے دوپستول، کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ کے خول، سرکاری گاڑی سمیت تین کاریں، دو موٹرسائیکلیں اور ساوٴنڈ سسٹم اس مقدمے کی کیس پراپرٹی کے طور پر ضبط ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز