بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران محض ایک ریاست کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک تہذیبی کھلاڑی کے طور پر، استقلال، مزاحمت اور اسلامی شناخت سازی (اور تشخص سازی) کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے جو عالم اسلام کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور عالمی طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔
ایران ان معدودے چند ممالک میں سے ہے جن کی سیاسی اور ثقافتی شناخت نوآبادیاتی سرحدوں کی پیداوار نہیں، بلکہ حکمرانی، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے طویل و مسلسل تجربے میں جُڑی ہوئی ہے۔ یہ گہری تاریخی بنیاد ایران کے مقام کو عالم اسلام میں محض ایک علاقائی کھلاڑی سے کہیں اوپر لے جاتی ہے۔
قدیم ایران کی شناخت، اسلامی دور اور عصر جدید کے درمیان تسلسل و استمرار نے ایک منفرد بنیاد تشکیل دی ہے جو ایران کو یہ امکان فراہم کرتی ہے کہ وہ اسلام کے تہذیبی بیانیے کو محض ایک عارضی سیاسی رجحان کے بجائے ایک طویل المدت تاریخی منصوبے کے طور پر آگے بڑھا دے۔
اسلامی انقلاب اور اسلام کے تہذیبی بیانیے کی تجدید
ایرانی تہذیب اور اسلام کے باہمی تعامل نے ایک ایسا ماحول کیا ہے جس میں عدل، روحانیت، مزاحمت، عقلیت اور سیاسی خودمختاری جیسے تصورات نہ صرف نظریاتی اور نظری سطح پر، بلکہ حکمرانی کے عملی میدان میں بھی ظہور پذیر ہوئے ہیں۔
اسلامی تمدن علم، ثقافت، روحانیت اور سیاسی فکر کی پیداوار میں بنی نوع انسان کے اہم ترین تجربات میں سے ایک ہے؛ تاہم، گذشتہ صدیوں میں ـ خصوصاً استعماری دور اور اس کے بعد ـ اس کی قابل ذکر صلاحیتوں کو پس پشت ڈال دیا گیا اور مسلم معاشروں کو مغربی طاقتوں پر انحصار کی جانب دھکیل دیا گیا۔
ایران میں سنہ 1979ع کا اسلامی انقلاب اس عظیم تہذیبی ورثے کی تجدید میں ایک اہم موڑ ہے۔ خطے کی بہت سی سیاسی تحریکوں کے برعکس، جنہوں نے یا تو مغربی نمونوں کی نقالی کی یا ماضی پرستانہ (Nostalgic) تصورات سے دوچار ہوئیں ـ اسلامی انقلاب نے اسلام کو ایک پُرحرکت، وقت شناس، تغیّر آفرین تہذیبی فریم ورک کے طور پر متعارف کرایا۔
اس نظریئے نے واضح کیا کہ اسلام ایک آزاد، عوامی اور انصاف پر مبنی سیاسی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ نتیجتاً، ایران پورے عالم اسلام میں تشخص کی تجدید اور مزاحمت اور آزادی و خودمختاری کی تحریکوں کے لیے تحریک کا منبع بن گیا۔
مزاحمت، نرم طاقت اور علاقائی اثر کی نئی تعریف
مغربی بیانیے ایران کی مزاحمت کو محض سیاسی یا تدبیری اور عارضی رویہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مزاحمت گہری تہذیبی جڑوں پر قائم ہے۔
ایرانی مزاحمت اس ملک کی تاریخی اور روحانی شناخت پر استوار ہے؛ ایسی شناخت جس نے ہمیشہ غیروں کی بالادستی کو رد کیا ہے اور حاکمیت کو اپنے سیاسی فلسفے کا مرکز قرار دیا ہے۔
دہائیوں کے سیاسی دباؤ، پابندیوں، نفسیاتی جنگ اور سلامتی کے خطرات کے باوجود، ایران نے اپنی آزادی اور استقامت کو برقرار رکھا ہے۔ اس استقامت اور پائیداری کا سرچشمہ ایسا تہذیبی ادراک ہے جس میں قومی عزت، سیاسی آزادی، عالمی انصاف اور بیرونی بالادستی کا انکار، بنیادی اصول شمار ہوتے ہیں۔
ایران بیرونی دباؤ کو جدت، خود انحصاری اور متبادل راستوں کے فروغ کے مواقع میں بدلنے میں کامیاب رہا ہے اور ثابت کرکے دکھایا ہے کہ مزاحمت ایک تعمیری اور مستقبل پر نظر رکھنے والی حکمت عملی ہے۔
اسی دوران، ایران کا علاقائی اثر محض سیاسی یا فوجی صلاحیتوں تک محدود نہیں ہے۔ ایران دنیا کی سب سے وسیع نرم طاقت کے ذخائر سے مالا مال ہے جو اس کی ثقافت، ادب، فلسفہ اور روحانی روایات میں جڑی ہوئی ہے۔
ایران کی نرم تہذیبی طاقت
حافظ، شیخ سعدی اور مولانا روم سے لے کر تشیّع کی فکری میراث اور اس کے عدل و انصاف پر مبنی عالمی نظریئے تک، ایران ایک ایسی تہذیبی نرم طاقت سے بہرہ ور ہے جس کی صدا پورے عالم اسلام بلکہ اس سے بھی آگے گونجتی ہے۔
اس نرم طاقت کو 'سیاسی اثر' سمجھا جاتا ہے اور ایران کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ علاقائی پیشرفت اور ترتیبات میں ایسا کردار ادا کرے جو طاقت پر نہیں، بلکہ ثقافتی اور نظریاتی رشتوں اور رابطوں پر استوار ہو۔
ایران سے وابستہ فکری، ثقافتی اور اقداری نیٹ ورکس نے مزاحمت اور آزادی اور استقلال کے علاقائی بیانیے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران کے اسٹراٹیجک مقام کو مضبوط کر دیا ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں میں مغربی ایشیا کے سیاسی منظر نامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں جن میں سب سے اہم مغرب کی بالادستی کا زوال ہے۔
اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ "محور مقاومت" (محاذ مزاحمت) کا معرض وجود میں آنا اور ظہورپذیر ہونا ہے جس نے بڑی حد تک ایران کے استقلال اور خود مختاری کے نمونے سے فیض اٹھایا ہے۔ اس محور نے علاقائی سلامتی کے فریم ورک کی نئی تعریف کی ہے اور مغرب کے دیرینہ فوجی اور سیاسی ڈھانچوں کو چیلنج کیا ہے۔
لبنان اور فلسطین سے لے کر عراق اور یمن تک، انصاف، آزآدی و استقلال اور سامراج مخالفت کے اصولوں پر استوار مزاحمتی و مقاومتی تحریکوں نے اسٹراٹیجک توازن کو اس انداز سے بدل ڈالا ہے جس کا گذشتہ صدی میں تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس مشترکہ تہذیبی اور شناختی نظریئے کی پرورش میں ایران کے کردار نے ایک ایسی علاقائی تحریک کی بنیاد رکھی ہے جس میں مزاحمت محض ایک تدبیر نہیں، بلکہ ایک وجودی اصول ہے، [جس پر لاکھوں مصائب و مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود کاربند رہنا پڑے گا کیونکہ اگر ایسا ہؤا تو قوم و ملت برقرار ہے اور آزادی کے راستے پر گامزن، اور اگر ایسا نہ ہؤا تو صدیاں غلامی سہنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا]۔
ایران اور عالمی کثیر قطبی ترتیب کا مستقبل
دنیا ایک کثیر قطبی ترتیب (Multipolar Order) کی جانب بڑھ رہی ہے؛ ایسی ترتیب جس میں چین، روس اور ہندوستان جیسی مشرقی طاقتیں، اور ساتھ ہی ایران جیسے تہذیبی کردار، فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس بدلتے ماحول میں ایران نے اپنے خارجی تعلقات باہمی [دو طرفہ اور چند طرفہ] مفاد، احترام اور اسٹراٹیجک آزادی و استقلال کی بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔
شانگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت، ایشیائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا فرورغ، ابھرتی ہوئی تجارتی راہداریوں میں شرکت اور "مشرق کی جانب نگاہ" کی تزویراتی پالیسی سب ایران کی اس کوشش کو نمایاں کرتے ہیں کہ وہ خود کو نئی عالمی ترتیب میں ایک مؤثر کھلاڑی کے طور پر مستحکم کرے۔
ماضی کے یک قطبی عالمی ترتیب کے برعکس، نئے ماحول نے ایران کو نہ صرف شریک بلکہ بین الاقوامی تبدیلیوں کی سمت متعین کرنے والا کردار بننے کا موقع دیا ہے اور وہ اپنی تہذیبی گہرائی کو ایک کلیدی اثاثے کے طور پر بروے کار لا سکتا ہے۔
بلاشبہ ایران کے تہذیبی منصوبے کے سامنے چیلنجز بھی ہیں: مغرب کی طرف سے بیانیوں کی جنگ، ایران کی تصویر مسخ کرنے، عالم اسلام میں تقسیم پیدا کرنے اور ایران کے علاقائی شراکتوں کو کمزور کرنے کی سازشیں وغیرہ۔ معاشی دباؤ، پابندیاں اور علاقائی مسابقتیں بھی سنگین رکاوٹیں ہیں۔
تاہم، ایران کے سامنے موجود مواقع بھی اتنے ہی عظیم ہیں: مسلم ممالک میں شناخت و تشخص پر مبنی بیداری میں اضافہ، مغربی سیاسی نمونوں کی بار بار ناکامی، غیر مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ اور عالم اسلام کی ترقی کے لیے حقیقی طور پر آزاد نمونے کی فوری ضرورت۔ ایران اپنے تہذیبی ورثے کو میدان میں لا کر اور چیلنجوں کو اسٹریٹجک فوائد میں بدل کر، اس مقام پر کھڑا ہے کہ وہ اسلام کے تہذیبی بیانیے میں اپنا مقام مضبوط کر سکتا ہے۔
مستقبل کی دنیا میں ایران کا کردار
عالم اسلام میں ایران کے مستقبل کے کردار کی تعریف محض فوجی یا معاشی اشاریوں سے نہیں، بلکہ تہذیبی رہنمائی سے ہوگی؛ ایسی رہنمائی جو انصاف، استقلال، روحانیت، مزاحمت، عوامی حاکمیت اور انسانی وقار جیسے اصولوں پر استوار ہوگی؛ ایسے اصول جو ترقی کے اسلامی نمونے کے لئے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ایران نے دکھایا ہے کہ 'اسلامی شناخت' ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ معاشروں کو طاقتور اور بااختیار بناتی ہے۔
یہ پیغام عالم اسلام کے لئے ـ جو برسوں مغرب کے مسلط کردہ نمونوں کے دباؤ میں رہا ہے ـ گہری اہمیت رکھتا ہے۔ آج، مغربی بالادستی کے زوال اور طاقت کے متبادل مراکز کے ابھرنے کے ساتھ، یہ موقع حاصل ہؤا ہے کہ اسلام کی ایک بار تعریف و تشریح کی جائے اور اسے ایک بار پہچاننا چاہئے۔ اس تبدیلی کے اندر، ایران ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے؛ طاقت کے بل پر نہیں، بلکہ نرم طاقت، تہذیبی شناخت اور اسٹراٹیجک استقلال و خودمختاری کے سہارے۔
آج ایران محض ایک ملک نہیں؛ بلکہ ایک تہذیبی بیانیہ ہے۔ ایسا بیانیہ جس میں مزاحمت کوئی عارضی ردعمل نہیں، بلکہ شناخت پر مبنی شعوری انتخاب ہے؛ آزادی اور استقلال محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ بنیادی اصول ہے؛ اور اسلام محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ مستقبل کے لئے ایک تہذیبی امکان اور قابلیت ہے۔ اسلام کے تہذیبی بیانیے کی تشکیل میں ایران کا کردار بنیادی اور مستقبل ساز ہے؛ ایسا کردار جو نئی عالمی نظم کے ستونوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو کثیر قطبیت کی جانب بڑھ رہی ہے، ایران اپنے تہذیبی ورثے، نرم طاقت اور سیاسی عزم کے بل پر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ عالم اسلام کے لئے ایک نیا راستہ رسم کرے؛ ایسا راستہ جو وقار، حاکمیت اور عالمی انصاف میں پیوست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فاطمہ کاوند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ