1 جنوری 2026 - 12:16
کبھی بھی قیادت کے خلا سے دوچار نہیں ہوئے، حماس

حماس کے ایک سینئر رکن نے واضح کیا کہ یہ تحریک  کبھی بھی قیادت کے خلا سے دوچار نہیں ہوئی، اور پانچ شخصیات پر مشتمل ایک کونسل نے اس کے امور کا انتظام سنبھال ہؤا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق، حماس تحریک کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ صہیونی ریاست نے جان بوجھ کر انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور غزہ میں انسانی بنیاد پر بھجوائی جانے والی امداد کے داخلے کو روک رکھا ہے، جو جنگ بندی کے معاہدے سے واضح طور پر انحراف ہے۔

حمدان نے الجزیرہ لائیو نیٹ ورک سے کہا کہ اس بات پر گفتگو کرنا کہ اسرائیلی قابضوں کی اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنے کے دوران ہی حماس ہتھیار ڈال دے گی، ایک بے بنیاد خوش فہمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتانیاہو کے استقبال کے دوران ٹرمپ کے کہے ہوئے الفاظ امریکہ کی اسرائیل کی طرفداری کے دائرے سے باہر نہیں تھے۔

حماس کے اس سینئر رکن نے واضح کیا کہ امریکی حکومت کو اسرائیلی قبضے پر جنگ بندی معاہدے میں دیئے گئے تمام وعدوں پر عمل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

حمدان نے اس بات پر زور دیا کہ صہیونیوں کو فوری طور پر بلا روک ٹوک امداد اور ایندھن کے غزہ میں داخلے کی بحالی اور رفح گذرگاہ کو دونوں اطراف سے کھلنے کی اجازت دینی چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ قطر، مصر اور ترکیہ کے ثالث واشنگٹن سے اسرائیلی قابضوں کو جنگ بندی معاہدے کے تمام نکات نافذ کرنے پر مجبور کرنے کے لئے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وی با بیان اینکه اسرائیل در تلاش برای تخلیه اراضی فلسطینی در غزه و کرانه باختری از ساکنان است، اظهار داشت که هیچ فلسطینی وجود ندارد علیرغم جنایات نسل‌کشی در غزه و کرانه باختری، تمایلی به ترک سرزمین خود داشته باشد.

انھوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی عوام کو غزہ اور مغربی کنارے سے نکال باہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی کے جرائم کے باوجود کوئی فلسطینی اپنی زمین چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

حماس کے اس رہنما نے کہا کہ فلسطینی زمینوں کو خالی کرانے اور لوگوں کو جبری طور پر بے گھر کرنے کے منصوبوں اور کوششوں کے تحت اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے۔

حمدان نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کوششوں کو روک دے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حماس تحریک نے اپنی قیادت اور کمانڈ کے ڈھانچے میں کسی خلا کا سامنا نہیں کیا اور اس تحریک کی ایک پانچ رکنی کونسل ہے جو تحریک کے معاملات کا انتظام چلانے کی ذمہ دار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha