مکہ معاہدہ
-
مکہ دفاعی معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں؛ باہمی دفاع، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور 10 سال تک معاہدے سے نکلنے پر پابندی
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع، فوجی معاونت، خفیہ معلومات کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون کے پابند ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق، اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد ابتدائی 10 سال تک کوئی ملک اس سے الگ نہیں ہو سکے گا۔
-
سعودی بادشاہت کا زوال
'میثاق مکہ'، سلطنتِ آلِ سعود اور ایم بی ایس کی فرسودہ قانونیت کا سہارا - 3 + نکتہ
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان 'مکہ دفاعی معاہدے' کا تجزیہ بنیادی طور پر اس حکمت عملی کے تناظر میں ہونا چاہئے جس کا مقصد ذاتی اقتدار کا تحفظ اور 'آلِ سعود' کے اندر اقتدار کے پیچیدہ ڈھانچے میں محمد بن سلمان کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ مطلق بادشاہت کے ادارہ جاتی عدم استحکام سے بخوبی آگاہ، سعودی ولی عہد نے اس معاہدے کو کثیر پرتوں پر مشتمل داخلی تسدید (Deterrence) کے ایک میکانزم کے طور پر تشکیل دیا اور منعقد کیا۔
-
سعودی بادشاہت کا زوال
'میثاق مکہ'، سلطنتِ آلِ سعود اور ایم بی ایس کی فرسودہ قانونیت کا سہارا - 2
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان 'مکہ دفاعی معاہدے' کا تجزیہ بنیادی طور پر اس حکمت عملی کے تناظر میں ہونا چاہئے جس کا مقصد ذاتی اقتدار کا تحفظ اور 'آلِ سعود' کے اندر اقتدار کے پیچیدہ ڈھانچے میں محمد بن سلمان کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ مطلق بادشاہت کے ادارہ جاتی عدم استحکام سے بخوبی آگاہ، سعودی ولی عہد نے اس معاہدے کو کثیر پرتوں پر مشتمل داخلی تسدید (Deterrence) کے ایک میکانزم کے طور پر تشکیل دیا اور منعقد کیا۔
-
سعودی بادشاہت کا زوال
'میثاق مکہ'، سلطنتِ آلِ سعود اور ایم بی ایس کی فرسودہ قانونیت کا سہارا -1
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان 'مکہ دفاعی معاہدے' کا تجزیہ بنیادی طور پر اس حکمت عملی کے تناظر میں ہونا چاہئے جس کا مقصد ذاتی اقتدار کا تحفظ اور 'آلِ سعود' کے اندر اقتدار کے پیچیدہ ڈھانچے میں محمد بن سلمان کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ مطلق بادشاہت کے ادارہ جاتی عدم استحکام سے بخوبی آگاہ، سعودی ولی عہد نے اس معاہدے کو کثیر پرتوں پر مشتمل داخلی تسدید (Deterrence) کے ایک میکانزم کے طور پر تشکیل دیا اور منعقد کیا۔
-
پاکستان : سعودی عرب فوج بھیجنے کا فیصلہ مکہ دفاعی معاہدے کی ضروریات کے مطابق ہوگا
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سکیورٹی ضروریات اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل سہ فریقی اتحاد کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کے فیصلوں کے مطابق ہوگی۔
-
یمن اور سعودی عرب کی صورتحال پر مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کا ہنگامی اجلاس
یمن اور سعودی عرب میں حالیہ پیش رفت کے بعد ریاض میں مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کے سیاسی، دفاعی اور حکمتِ عملی سے متعلق حکام کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کے دفاع، یمن کے مسئلے کے حل اور مشترکہ فوجی اقدامات پر غور کیا گیا۔
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مکہ سکیورٹی معاہدے کو عملی شکل دینے پر اجلاس
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات کی۔
-
پاکستان کا بڑا اعلان، مکہ معاہدہ ایران سے تعلقات متاثر نہیں کرے گا
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والا مکہ معاہدہ ایران کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہیں کرے گا، جبکہ اس معاہدے کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے۔
-
اردوغان: مکہ معاہدہ عالم اسلام کے لیے اہم پیغام ہے، مثبت نتائج سامنے آئیں گے
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مل کر عالم اسلام کے لیے ایک پیغام دیا ہے اور مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔
-
پاکستان کا یمن کے خلاف فوجی کارروائی سے انکار
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یمن کی انصار اللہ کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے اسلام آباد میں فی الحال معاملہ زیر غور نہیں۔
-
یمن جنگ میں مکہ معاہدے کا پہلا امتحان؛ پاکستان اور ترکی کے کردار پر سوالات
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں کسی بھی رکن ملک پر حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع کے لیے اہم اتحاد قرار دیا گیا تھا، تاہم یمن میں حالیہ پیش رفت نے اس معاہدے کی عملی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
-
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا استنبول میں پہلا اجلاس، تینوں ممالک کی عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے، ہمارا اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے،۔
-
مصر نے مکہ معاہدے میں شمولیت کیوں اختیار نہیں کی؟
سابق ایرانی سفارت کار محمد حسین سلطانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ میں ہونے والے سہ فریقی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت قاہرہ کی علاقائی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن کی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔
-
ایران، پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی کی تاریخ دیرینہ ہے: بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور تہران کو ان دونوں ہمسایہ ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے کسی قسم کی تشویش نہیں۔