اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر دو ممالک اس کے دفاع کے لیے فوجی معاونت فراہم کریں گے۔
یمن میں حالیہ جنگی صورتحال نے اس معاہدے کو پہلے ہی بڑے امتحان سے دوچار کردیا ہے۔
ایران کی مخالفت میں مکہ معاہدے کو بڑے دفاعی اتحاد کے طور پر نمایاں کرنے والی بی بی سی فارسی نے اب یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہوگا؟
بی بی سی فارسی نے لکھا کہ پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاع کی ذمہ داری قبول کرچکا ہے، جبکہ دوسری جانب اس سلسلے میں کسی بھی فوجی اقدام سے ملک کے اندر سیاسی اور عوامی ردعمل پیدا ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مکہ معاہدے کی بنیاد یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔
پاکستان کے لیے داخلی چیلنج
بی بی سی فارسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کے اندر ایران اور فلسطینی عوام کے لیے قابلِ ذکر حمایت موجود ہے، اس لیے ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے خلاف پاکستان کی براہِ راست فوجی کارروائی حکومت کے لیے داخلی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر یمن کے خلاف براہِ راست جنگ میں شامل ہونا پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے داخلی سیاسی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔
ترکی کا مؤقف
مکہ دفاعی معاہدے کے تیسرے رکن ترکی کے حوالے سے بی بی سی نے لکھا کہ ترک وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر یمنی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ترکی نے اپنے بیان میں مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے یا معاہدے کے تحت کسی مشترکہ فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔
کیا پاکستان یمن کے خلاف جنگ میں جائے گا؟
بی بی سی فارسی نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان یمنی مسلح افواج کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق نظری طور پر پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے جنگ میں شامل ہوسکتا ہے، تاہم مکہ معاہدہ پاکستان کو لازماً یمن کے خلاف براہِ راست حملہ کرنے کا پابند نہیں کرتا۔
بی بی سی نے کہا کہ پاکستان کی داخلی صورتحال اور تہران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے یمنی مسلح افواج کے ٹھکانوں پر براہِ راست پاکستانی حملہ ممکنہ طور پر اسلام آباد کا پہلا ردعمل نہیں بلکہ آخری آپشن ہوگا۔
آپ کا تبصرہ