15 اگست 2026 - 16:14
مصر نے مکہ معاہدے میں شمولیت کیوں اختیار نہیں کی؟

سابق ایرانی سفارت کار محمد حسین سلطانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ میں ہونے والے سہ فریقی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت قاہرہ کی علاقائی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن کی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصر میں ایران کے سابق ناظم الامور محمد حسین سلطانی نے اپنے ایک تجزیے میں مکہ کے سہ فریقی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت کی چھ اہم وجوہات بیان کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے برعکس مصر کی سرحد صہیونی حکومت کے ساتھ ملتی ہے اور کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی شرائط کے باعث قاہرہ ایسے معاہدوں میں آسانی سے شامل نہیں ہوسکتا جو علاقائی سلامتی سے متعلق ہوں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان کہ یہ معاہدہ صہیونی حکومت کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے، مصر کے تحفظات کو مزید واضح کرتا ہے۔

سلطانی کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ مصر خود کو عرب دنیا کی قیادت کا دعویدار اور عرب دنیا کی سب سے طاقتور فوج کا حامل ملک سمجھتا ہے۔ قاہرہ کا مؤقف ہے کہ علاقائی سلامتی کا براہِ راست تعلق خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں مصر کی سلامتی سے ہے، اس لیے وہ ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتا جس کے تین میں سے دو رکن عرب ممالک نہ ہوں۔

انہوں نے تیسری وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ ایران کے حوالے سے خطے میں سیاسی اور سکیورٹی توازن کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا، بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد۔ اسی پالیسی کے تحت مصر نے 12 روزہ جنگ سے قبل ایران کے خلاف نام نہاد عرب نیٹو تشکیل دینے کی مخالفت کی تھی۔

سابق ایرانی سفارت کار کے مطابق چوتھی وجہ یہ ہے کہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک خطے میں صہیونی حکومت کے مستقبل کے منصوبوں اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں، جن سے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب متاثر ہوسکتے ہیں۔ قاہرہ نہیں چاہتا کہ وہ بھی مستقبل میں صہیونی حکومت کے ممکنہ اہداف میں شامل ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ پانچویں وجہ مصر کی یہ پالیسی ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے گریز کرتا ہے جس کی بنیاد بنیادی طور پر فوجی اور سکیورٹی معاملات پر ہو۔ قاہرہ اس حوالے سے خطے کی سابقہ جنگوں اور اپنے تجربات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔

سلطانی نے چھٹی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی پالیسی اور حکومت سعودی عرب سے زیادہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات اور مفادات کو مدنظر رکھتی ہے۔ ان کے مطابق قاہرہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان مسابقت سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha