بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایسی حکومتوں میں جنہیں فطری یا بنیادی قانونیت (یا قانونی حیثیت = Legitimacy) حاصل نہ ہو ـ اور جہاں حکمران کی کرشماتی کشش بتدریج کمزور پڑ رہی ہوـ وہاں بیرونی سکیورٹی اتحاد قانونی حیثیت کے متبادل ذریعے، اور شاہی دربار کے اندرونی خطرات کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال، کا کام دے سکتا ہے ہیں۔
بن سلمان کے اسٹراٹیجک مقاصد میں سے ایک باہمی دفاعی ضمانتوں کا ایسا نیٹ ورک قائم کرنا ہے جو ممکنہ داخلی اور محلاتی حریفوں کو اس کے خلاف کسی بھی اقدامات سے باز رکھے اور کسی بھی بغاوت یا اقتدار کی [جبری] منتقلی کی قیمت (لاگت) کو بہت زیادہ بڑھا دے۔ یہ اقدام حکومتی سطح پر 'دفاعی حقیقت پسندی' (Defensive realism) کی منطق کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایک سیاسی رہنما دور کے خطرات کے مقابلے میں فوری خطرات (قریبی حریفوں) سے نمٹنے کو ترجیح دیتا ہے اور داخلی طاقت کے توازن کو مستحکم کرنے کے لئے بیرونی وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
سکیورٹی کی سیاسی معیشت کے تناظر میں، سعودی عرب کا 'رینٹیئر' (Rentier یعنی تیل، گیس یا دیگر قدرتی وسائل پر انحصار کرنے والا) معاشی ڈھانچہ ـ جو ساختی لحاظ سے خلیج فارس کی دیگر عرب ریاستوں سے ملتا جلتا ہے ـ تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی (رینٹ) کی تقسیم کے سہارے قائم ہے۔
اس ماڈل نے ایک ایسا غیر تحریری سماجی معاہدہ (Social contract) تشکیل دیا ہے جو سیاسی اطاعت کے بدلے مادی خوشحالی کی فراہمی پر مبنی ہے۔ تاہم، خطے کے جغرافیائی و معاشی منظرنامے میں موجودہ رجحانات کا امتداد ـ جن میں تیل کی فروخت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں، ضروری درآمدات کی سپلائی چین میں خلل اور تنخواہوں، مراعات اور سماجی تحفظ کے نظام کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی بڑھتی ہوئی زدپذیری (Vulnerability) اور بے بسی، شامل ہیں ـ ناگزیر طور پر اس سماجی معاہدے کے خاتمے اور ساختی شکایات کے ہجوم کا باعث بنے گا۔
'رینٹیئر اسٹیٹ تھیوری' (Rentier state theory) کے تناظر میں، آمدنی (رینٹ) تقسیم کرنے کی صلاحیت میں کمی سعودی حکومت کی 'کارکردگی پر مبنی 'قانونیت (Legitimacy)' کو کمزور کرتی ہے اور عوامی احتجاج اور احتجاجی تحریکوں کے ابھر آنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مرتضی امیری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ