14 اکتوبر 2026 - 09:56
'میثاق مکہ'، سلطنتِ آلِ سعود اور ایم بی ایس کی فرسودہ قانونیت کا سہارا - 3 + نکتہ

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان 'مکہ دفاعی معاہدے' کا تجزیہ بنیادی طور پر اس حکمت عملی کے تناظر میں ہونا چاہئے جس کا مقصد ذاتی اقتدار کا تحفظ اور 'آلِ سعود' کے اندر اقتدار کے پیچیدہ ڈھانچے میں محمد بن سلمان کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ مطلق بادشاہت کے ادارہ جاتی عدم استحکام سے بخوبی آگاہ، سعودی ولی عہد نے اس معاہدے کو کثیر پرتوں پر مشتمل داخلی تسدید (Deterrence) کے ایک میکانزم کے طور پر تشکیل دیا اور منعقد کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایسی حکومتوں میں جنہیں فطری یا بنیادی قانونیت (یا قانونی حیثیت = Legitimacy) حاصل نہ ہو ـ اور جہاں حکمران کی کرشماتی کشش بتدریج کمزور پڑ رہی ہوـ وہاں بیرونی سکیورٹی اتحاد قانونی حیثیت کے متبادل ذریعے، اور شاہی دربار کے اندرونی خطرات کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال، کا کام دے سکتا ہے ہیں۔۔۔

تیسری اور آخری قسط:

انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن اور ذمار صوبے کے گورنر، محمد البخیتی کے بیانات عوامی سفارت کاری اور معلوماتی جنگ (Information warfare) کے حوالے سے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں۔

انھوں نے ـ سعودی عرب کے اندرونی اختلافات اور ملک کے مختلف سماجی طبقات میں بن سلمان اور آلِ سعود کی گرتی ہوئی مقبولیت سے متعلق زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر، ـ ایسی کسی بھی اندرونی تحریک ـ خواہ وہ عوامی ہو، منظم اپوزیشن ہو، یا خود شاہی خاندان کے اندر کے عناصر ہوں ـ کی حمایت کے لئے صنعا کی مکمل استعداد کا عندیہ دیا ہے جس کا مقصد بن سلمان اور آل سعود کے حکمران ڈھانچے کا تختہ الٹنا ہو۔

یہ موقف نہ صرف سعودی عرب کے اندر سیکیورٹی اور سماجی حقائق کی عکاسی کرتا ہے بلکہ علاقائی غیر ریاستی اور نیم ریاستی اداکاروں کی اس صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سعودیہ کے داخلی معاملات میں غیر متوازن (Asymmetric) مداخلت کر سکیں اور ریاض میں اقتدار کی تبدیلی کے عمل کو تیز کر سکیں۔ علاقائی سیکیورٹی کے مطالعے کی رو سے، آمادگیوں اور استعدادوں کے اس قسم کے اعلانات، یا تو ایک باز رکھنے والے اشارے (Deterrent signals) کے طور پر کام کر سکتے ہیں یا پھر ناراض داخلی قوتوں کے لئے ایک محرک کا کردار کر سکتے ہیں، جس سے سعودی حکمرانوں کے لئے موجودہ صورتحال (Status quo) برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

ساختی اعتبار سے، کئی عوامل کا مجموعہ ـ یعنی ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے بیرونی اتحادوں (جیسے کہ 'مکہ معاہدہ') پر انحصار، بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں 'رینٹیئر اکانومی' (Rentier economy) کی انتہائی زدپذیری (اور کمزوری)، اشرافیہ کے اندرونی اختلافات، ایران کے خلاف عدم استحکام کے لئے بن سلمان کی تیار کردہ سازش میں خود اس کے پھنس جانے، اور علاقائی فریقوں کی جانب سے نظامِ حکومت میں ساختی تبدیلی کی اعلانیہ حمایت ـ نے مجموعی عدم استحکام کی ایک ایسی کیفیت پیدا کر دی ہے جو بن سلمان کے اقتدار کی بقاء و استحکام کو شدید خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔

ایسے ماحول میں، 'مکہ معاہدہ' کی اجتماعی تسدید (Deterrence) کی منطق قومی سلامتی کو مضبوط کرنے کے بجائے، محض رہنما [محمد بن سلمان] کی ذاتی بقاء کے تحفظ کا کام دیتی ہے؛ اور ساتھ ہی، یہ ایک ایسا عنصر بن جاتی ہے جو علاقائی اور داخلی دونوں طرح کے تناؤ میں شدت آنے کا باعث بنتا ہے۔

یہ صورتحال آل سعود کے موجودہ اقتدار کے ڈھانچے کے بتدریج کمزور پڑنے اور بالآخر منہدم ہونے کی راہ ہموار کرتی ہے، اور خلیجِ فارس کی حکومتوں کے استحکام سے متعلق روایتی جائزوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ کیونکہ۔۔ـ

نکتہ:

برطانیہ کی قائم کردہ ـ سعودی حکومت خلیج فارس کے ساحل پر برطانیہ اور امریکہ کی قائم کردہ ریاستوں میں سب سے زیادہ مضبوط حکومت سمجھی جاتی تھی، اور اگر یہ حکومت گر جائے تو لامحالہ دوسری ـ چھوٹی ـ ریاستوں کی باری آتی ہے؛ اور ہاں! فلسطین میں برطانیہ کی قائم کردہ یہودی-اسرائیلی ریاست ـ جو سعودی حکومت کی جڑواں سمجھی جاتی ہے ـ بھی ڈگمگا جائے گی، جو پہلے ہی زوال اور تنزل کے عمل سے گذر رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مرتضی امیری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha