بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایسی حکومتوں میں جنہیں فطری یا بنیادی قانونیت (یا قانونی حیثیت = Legitimacy) حاصل نہ ہو ـ اور جہاں حکمران کی کرشماتی کشش بتدریج کمزور پڑ رہی ہوـ وہاں بیرونی سکیورٹی اتحاد قانونی حیثیت کے متبادل ذریعے، اور شاہی دربار کے اندرونی خطرات کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال، کا کام دے سکتا ہے ہیں۔۔۔
دوسری قسط:
'رینٹیئر اسٹیٹ تھیوری' (Rentier state theory) کے تناظر میں، آمدنی (رینٹ) تقسیم کرنے کی صلاحیت میں کمی سعودی حکومت کی 'کارکردگی پر مبنی 'قانونیت (Legitimacy)' کو کمزور کرتی ہے اور عوامی احتجاج اور احتجاجی تحریکوں کے ابھر آنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
جب یہ سماجی و اقتصادی دباؤ اشرافیہ کے اندرونی گہرے اختلافات کے ساتھ ملتے ہیں ـ: جیسے کہ بن سلمان اور شاہی خاندان و سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقوں کے درمیان کھل کر سامنے آئے ہیں اور پختہ دستاویزی شکل میں موجود تنازعات، جو ناقابل انکار ہیں ـ تو ایک وسیع پیمانے پر 'بحرانِ قانونیت (Legitimacy crisis) اور ان کے اقتدار کے خاتمے کا امکان تیزی سے بڑھ جاتا ہے، جس سے آلِ سعود کے موجودہ ڈھانچے کا انہدام ایک انتہائی متوقع منظرنامہ بن جاتا ہے۔
ایک تزویراتی اہمیت کا حامل نکتہ یہ ہے کہ بن سلمان ـ جس نے برسوں تک ایران میں انتشار، بے چینی اور عدم استحکام پھیلانے اور اپنے علاقائی حریف کو ساختی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ـ اب خود اسی دھوکہ دہی پر مبنی حکمتِ عملی اور عدم استحکام کے چکر میں پھنس چکا ہے۔ تہران کے خلاف جارحانہ ہتھیار کے طور پر وضع کی گئی حکمتِ عملی اب سعودی عرب کی وسیع پیمانے پر اندرونی کمزوریوں میں اضافے کا باعث بن گئی ہے، جس نے بن سلمان کو اسی 'تدبیر' سے دوچار کر دیا ہے جسے اس نے خود ترتیب دیا تھا۔
اس تناظر میں، انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن اور ذمار صوبے کے گورنر، محمد البخیتی کے بیانات عوامی سفارت کاری اور معلوماتی جنگ (Information warfare) کے حوالے سے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں۔
انھوں نے ـ سعودی عرب کے اندرونی اختلافات اور ملک کے مختلف سماجی طبقات میں بن سلمان اور آلِ سعود کی گرتی ہوئی مقبولیت سے متعلق زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر، ـ ایسی کسی بھی اندرونی تحریک ـ خواہ وہ عوامی ہو، منظم اپوزیشن ہو، یا خود شاہی خاندان کے اندر کے عناصر ہوں ـ کی حمایت کے لئے صنعا کی مکمل استعداد کا عندیہ دیا ہے جس کا مقصد بن سلمان اور آل سعود کے حکمران ڈھانچے کا تختہ الٹنا ہو۔
یہ موقف نہ صرف سعودی عرب کے اندر سیکیورٹی اور سماجی حقائق کی عکاسی کرتا ہے بلکہ علاقائی غیر ریاستی اور نیم ریاستی اداکاروں کی اس صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ سعودیہ کے داخلی معاملات میں غیر متوازن (Asymmetric) مداخلت کر سکیں اور ریاض میں اقتدار کی تبدیلی کے عمل کو تیز کر سکیں۔ علاقائی سیکیورٹی کے مطالعے کی رو سے، آمادگیوں اور استعدادوں کے اس قسم کے اعلانات، یا تو ایک باز رکھنے والے اشارے (Deterrent signals) کے طور پر کام کر سکتے ہیں یا پھر ناراض داخلی قوتوں کے لئے ایک محرک کا کردار کر سکتے ہیں، جس سے سعودی حکمرانوں کے لئے موجودہ صورتحال (Status quo) برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مرتضی امیری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ