اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کا فوجی معاہدہ، جسے مکہ معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس سے ایران کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کی توقع نہیں ہے۔
احمد شریف چوہدری نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ یہ معاہدہ مشترکہ دفاعی حصار کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت یا حملہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ نہیں کرے گا اور چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اس سوال کے جواب میں کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملہ کیا جائے تو پاکستان کیا اقدام کرے گا، پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ دفاعی معاہدے کی عملی تفصیلات عام نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک یا فوج اپنی عسکری کارروائیوں یا دفاعی ذمہ داریوں کو عملی طور پر کس طرح پورا کرے گی، اس کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کرتی۔
احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ کسی حملے کی صورت میں عملی ردعمل کا تعین پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خود کریں گے۔
پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں متعدد دفاعی معاہدے موجود ہیں جن میں مخصوص ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں، تاہم ان کے تحت فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار کو عام نہیں کیا جاتا۔
احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خود کو اسلامی یا مسلم ممالک کے اتحاد کے طور پر پیش نہیں کرتا اور اس میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو اس میں شرکت کو صرف مسلم ممالک تک محدود کرتی ہو۔
ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام، امن اور سلامتی کا قیام ہے، نہ کہ صرف مسلم ممالک پر مشتمل کوئی اتحاد تشکیل دینا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس نظام کو وسعت دینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے کیا جائے گا، جبکہ توسیع کے وقت اور طریقہ کار کا تعین بھی یہی ممالک کریں گے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر مکہ معاہدے کے ممکنہ اثرات سے متعلق سوال پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ ایسا ہوگا۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کے تعلقات دیرینہ ہیں اور یہ تعلقات اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ اچانک قائم نہیں ہوئے۔
احمد شریف چوہدری کے مطابق مکہ معاہدے نے ان اسٹریٹجک تعلقات کو ایک رسمی شکل دی ہے اور اس کا مقصد مشترکہ دفاعی حصار قائم کرنا ہے، کسی ملک کے خلاف جارحیت کو فروغ دینا نہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کو دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ