6 اکتوبر 2026 - 16:18
یمن اور سعودی عرب کی صورتحال پر مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کا ہنگامی اجلاس

یمن اور سعودی عرب میں حالیہ پیش رفت کے بعد ریاض میں مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کے سیاسی، دفاعی اور حکمتِ عملی سے متعلق حکام کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کے دفاع، یمن کے مسئلے کے حل اور مشترکہ فوجی اقدامات پر غور کیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن اور سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد ریاض میں مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کے سیاسی، حکمتِ عملی اور دفاعی حکام کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ یہ اجلاس ابتدا میں مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کے درمیان باقاعدہ تعاون کا نظام قائم کرنے کے لیے منعقد ہونا تھا، لیکن حالیہ حالات کے باعث پیر کو ہونے والا اجلاس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعاون کو باقاعدہ شکل دینے کا عمل آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔

اجلاس میں تعاون کے ڈھانچے اور تنظیمی امور، مشترکہ سیکریٹریٹ کے قیام اور نئے سیکریٹری جنرل کی تقرری یا منظوری سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کی گئی۔

دفاعی وزرا اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی فوجی، عملی اور فنی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مشترکہ تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مکمل کرنے کا عمل بھی آخری مرحلے میں ہے۔

اجلاس میں یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور پُرامن راستوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط عزم رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اجلاس میں اس عزم کو عملی شکل دینے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے ریاض میں ہونے والے اجلاس کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مشترکہ تعاون، فوجی اور فنی امور کے طریقۂ کار اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کے وزرا کی کمیٹی کے اجلاس میں رکن ممالک کے اتحاد اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو فعال کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی حملے کی صورت میں مکہ معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی نظام فعال کیا جائے گا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی اور مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس کے اختتام پر تینوں ملکوں نے مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل ملکوں نے طے شدہ فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کرنے اور انہیں تیزی سے سعودی عرب پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha