5 جنوری 2026 - 15:30
"صہیونی ریاست کی 'بے پروائی'، سب کے لئے خطرہ ہے، سید عباس عراقچی

گوکہ بنیامین نیتن یاہو نے اس سال کے شروع میں امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک فوجی تصادم میں کھینچ لانے کا اپنا خواب پورا کر لیا، لیکن اس جارحیت کے بدلے اسرائیل کو بھاری اور بے مثال قیمت ادا کرنا پڑی / امریکیوں نے کھلم کھلا، تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک اتحادی نہیں، بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے گارجین اخبار میں لکھا: یہ حقیقت ـ کہ نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اسے ایران کے ساتھ اس دلدل سے نکالیں جس میں وہ پھنس گیا ہے، اس کے باعث بڑھتی ہوئی تعداد میں امریکیوں نے کھلم کھلا، تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک اتحادی نہیں، بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔

گارجین میں شائع ہونے والے ڈاکٹر سید عباس عراقچی کے مضمون کے بنیادی نکات:

مرکزی موقف: ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جارحیت اور بے پروائی پورے خطے کے لیے خطرہ ہے، اور اس کی اسرائیل پر اندھی حمایت امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ صہیونی ریاست کی بےپروائی، سب کے لئے خطرہ:

"ستمبر میں، امریکہ کے عرب اتحادی اسی نتیجے پر پہنچے جس پر ہم ایرانیوں نے ہمیشہ زور دیا ہے: "اسرائیل کی لاپروائی سب کے لئے خطرہ ہے۔"

یہ حقیقت مکمل طور پر نئے تعلقات کی راہ ہموار کرتی ہے جو ہمارے خطے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اب ایک مخمصے کا سامنا ہے: یا تو اسرائیل کو امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالر کے ساتھ بلینک چیک لکھنا جاری رکھیں، یا خطے میں رونما ہونے والی نئی تبدیلی کا حصہ بنیں"۔

2۔ خطے میں تبدیلی:

اسرائیلی خطرے کے خلاف اتحاد کے نتیجے میں خطے میں نئے تعاون کے راستے کھل گئے ہیں۔۔۔ امریکہ اب ایک دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو وہ اسرائیل کی بلا امتیاز حمایت جاری رکھے، یا خطے میں مثبت تبدیلی کا حصہ بنے۔

3۔ اسرائیل کی ناکامی:

حالیہ جنگ (جون 2025) میں اسرائیل کے دعوؤں کے برعکس، ایران کی وسیع دفاعی صلاحیتوں نے زیادہ تر صوبوں کو محفوظ رکھا، جبکہ اسرائیل کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے اسرائیل کی "ناقابل شکست ہونے کا ابھرم" ٹوٹ گیا۔

2۔ صہییونیوں کا امریکہ کو دھوکہ دینا:

امریکہ نے اسرائیل کے بنائے ہوئے افسانوں (جیسے ایران کا قریب الوقوع خاتمہ یا جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ) پر یقین کر کے اپنا سیاسی اور معاشی سرمایہ ضائع کیا۔ اس کے نتیجے میں "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی ناکام پالیسی سامنے آئی، جس کا ایران نے "زیادہ سے زیادہ مزاحمت" سے جواب دیا۔

4۔ جوہری معاملے پر واضح موقف:

ایران ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ وہ مذہبی، اخلاقی اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک حکمت عملی کا اصول ہے، نہ کہ وقتی حکمت عملی۔

5۔ مذاکرات کے لئے شرائط:

ایران مذاکرات کے لئے تیار ہے، لیکن کسی معاہدے میں پابندیاں قابل تصدیق طریقے سے ختم ہونا ضروری ہیں۔ امریکہ کو احترام کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے، ہمارے خلاف حالیہ تنازع کے باوجود، ہمارا صبر و تحمل ہمارے تزویراتی صبر کی علامت ہے، نہ کہ کمزوری کی۔

6۔ مذاکرات کی شرط:

ایران اور امریکہ کے مشترکہ دوست مذاکرات میں مدد کے لئے بے بہت پرعزم ہیں۔ ایک منصفانہ معاہدے کے لئے ایک "مختصر موقع کا دریچہ" موجود ہے، جس کے لئے پرانی روش توڑنے کی ہمت درکار ہوگی۔

خلاصہ:

یہ مضمون ایران کا اسرائیل کے خلاف اصولی موقف، امریکہ کی علاقائی پالیسی پر سخت تنقید، اور ایک ایسے منصفانہ جوہری معاہدے کے لئے شرائط پیش کرتا ہے جو پابندیوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ اس میں خطے میں نئے اتحاد اور امریکہ کے لئے ایک اہم فیصلے کے موقع کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha