اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں بھی وہی منصوبہ دہرانا چاہتا تھا جو اس نے وینزویلا میں آزمایا، تاہم اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیروت کے دورے کے دوران لبنانی خبر رساں ادارے المنار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سید عباس عراقچی نے ایران کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حالت مجموعی طور پر بہتر ہے، اگرچہ پابندیوں اور بعض معاشی مشکلات کے باعث مسائل موجود ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ غاصب صہیونی رژیم کے حکام خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ موساد کے عناصر تہران اور ایران کے دیگر حصوں میں موجود رہے اور حالیہ بدامنی میں ان کا کردار رہا۔
انہوں نے امریکا اور صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کا منصوبہ تھا کہ ایران میں بھی وینزویلا جیسا منظرنامہ دہرایا جائے۔
عراقچی کے مطابق امریکا اور اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ وہ صرف تین دن میں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران باہمی احترام کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور باوقار معاہدے کے لیے آمادہ ہے، تاہم اس بات پر سنجیدہ شکوک موجود ہیں کہ آیا امریکا واقعی ایسے کسی معاہدے کا خواہاں بھی ہے یا نہیں۔
آپ کا تبصرہ