بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی آبنا || نامور امریکی صحافی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور سی این این کے پروگرام "جی پی ایس" کے میزبان، فرید زکریا، واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں استدلال کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مبینہ فوجی کامیابیوں کو اس ملک کی فتح کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔/ مانتے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کو نقصان پہنچایا لیکن نہ تو اس ملک کی حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کی اور نہ ہی خود جنگ کے معاشی اور فوجی اخراجات سے محفوظ رہا۔ / امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حالات کو جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز امریکی حملوں سے سے پہلے کھلا تھا۔
فرید زکریا لکھتے ہیں:
چوتھی اور آخری قسط:
8۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہداف میں تضادات
• ٹرمپ کے رویے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کی شروع کردہ جنگ کے حتمی مقصد کا غیر واضح ہیں۔ امریکی حکومت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ ایران کی پالیسیاں تبدیل کرنا چاہتی ہے یا اس ملک کی حکومت گرانا چاہتی ہے؟ اس تضاد کو سمجھنے کے لئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔
• بیسنٹ نے ستمبر میں کہا تھا کہ واشنگٹن کا دوسرے ممالک کو پیغام یہ ہے کہ "یہ جنگ اور اقتصادی پابندیاں حکومت کے خاتمے کے لئے ہیں"، لیکن ساتھ ہی زور دیا تھا کہ "اس جنگ اور پابندیوں کا مقصد لازماً ایران کی حکومت کا خاتمہ نہیں اور واشنگٹن تہران پر مذاکرات کے لئے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے!"
• ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی تقریر میں ایک طرف ایسے معاہدے کا امکان ظاہر کیا تھا جو ایران کو دوبارہ ایک زیادہ طاقتور ملک بننے کی اجازت دے گا، اور دوسری طرف اسلامی جمہوریہ کے فوری خاتمے کی بات کی تھی۔
• یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے تھے جب ان کے نمائندے اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کوشنر ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہے تھے۔
• یہ امریکی رویہ، اس سوال کو تہران کے سامنے رکھتا ہے کہ اگر واشنگٹن کسی بھی صورت حال میں ایران کی حکومت کے خاتمے کا خواہاں ہے تو ایران اس کو رعایت کیوں دے؟
• ایسے حالات میں ایران کی قیادت مزاحمت، امریکہ پر لاگت مسلط کرنے اور اس کو تھکا دینے تک جنگ جاری رکھنے کو زیادہ مناسب آپشن سمجھتی ہے۔
9۔ جنگ کے خاتمے کے لئے سیاسی معاہدے کی عدم موجودگی
• اسٹیفن بڈل (Steven Biddle) اور ان کے ساتھیوں نے فارن افیئرز میگزین میں لکھا کہ جنگیں بالآخر سیاسی معاہدوں کے ذریعے ختم ہوتی ہیں۔ فوجی طاقت کسی معاہدے کے لئے حالات کو، بہتر کر سکتی ہے، لیکن سیاسی معاہدے کا متبادل نہیں بن سکتی۔
• اس بنیاد پر، اگر بالفرض امریکہ میدانِ جنگ میں برتری بھی رکھتا ہو، یہ برتری بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ ایران واشنگٹن کے مطالبات مان لے گا۔
• پائیدار نتیجہ حاصل کرنے کے لئے یہ واضح ہونا چاہئے کہ مذاکرات کا مقصد کیا ہے اور کون سے حالات جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں؟
• ٹرمپ انتظامیہ کو دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا:
• اگر مقصد ایران کی پالیسیوں کی تبدیلی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا اور اس ملک کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا ہے، تو واشنگٹن کو چاہئے کہ واضح اور قابلِ حصول مطالبات سامنے رکھے اور انہیں قبول کروانے کے لئے ایران پر دباؤ ڈالے۔ لیکن
• اگر مقصد ایران کی حکومت کا خاتمہ ہے، تو امریکہ کو ایک خونریز تنازع کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا جو خطے کے دیگر ممالک تک بھی سرایت کرے گا۔
• جب تک واشنگٹن اس تضاد کو حل نہیں کرتا، وہ اپنی مبینہ فوجی کامیابیوں کو فتح کی قطعی علامت کے طور پر پیش نہیں کر سکتا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی دلدل میں پھنسا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ