بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں تیزرفتاری سے آزادی کی تصویر کشی کی ہے؛ ایسی تبدیلی جو در حقیقت تبدیلیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ثابت ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کی تحقیقی رپورٹ جو تنازع میں شامل یا اس سے باخبر 15 سے زائد افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے، واضح کرتی ہے کہ ستمبر سنہ 2026ع میں ان علاقوں پر سے سعودی قبضے کے خاتمے کا واقعہ، ابتدائی تصور کے برعکس، کسی پیشگی انتباہ اور ناگہانی طور پر، رونما نہیں ہؤا۔

انصاراللہ نے ایک رات میں جنگ کے توازن بدل دیا؛ مگر کیسے؟ - 1
نیویارک ٹائمز بیان کرتا ہے کہ انصاراللہ نے اپنی مضبوط فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور یمن میں ریاض کی اجرتی ملیشیاؤں کے باہمی اختلافات اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر، ایک ہی رات میں مغربی ساحل اور اسٹراٹیجک آبنائے باب المندب کے بڑے حصوں کو آزاد کرا لیا۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں تیزرفتاری سے آزادی کی تصویر کشی کی ہے؛ ایسی تبدیلی جو در حقیقت تبدیلیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ثابت ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کی تحقیقی رپورٹ جو تنازع میں شامل یا اس سے باخبر 15 سے زائد افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے، واضح کرتی ہے کہ ستمبر سنہ 2026ع میں ان علاقوں پر سے سعودی قبضے کے خاتمے کا واقعہ، ابتدائی تصور کے برعکس، کسی پیشگی انتباہ اور ناگہانی طور پر، رونما نہیں ہؤا۔

اس رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے مہینوں تک سعودی عرب کو "انصاراللہ کے خطرے" کی واپسی کے بارے میں خبردار کیا تھا اور یمن کے مغربی ساحل پر سعودی اجرتی ملیشیاؤں کے کمانڈر "طارق صالح" نے بھی حملے سے قبل سعودی عرب اور امریکہ سے واضح حمایت کی درخواست کی تھی لیکن وہ صرف محدود سی حمایت حاصل کر پایا۔
یمن میں سعودی عرب سے وابستہ [مستعفی] حکومت کے ایک اہلکار اور دو سینئر فوجی افسران کے بیانات کے مطابق، صالح نے یہ جاننے کے بعد ـ کہ انصاراللہ کی افواج باب المندب تک پہنچنے کے لئے اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، ـ سعودی عرب سے فضائی کوریج فراہم کرنے کی درخواست کی اور امریکہ سے بھی کہا کہ وہ الیکٹرانک جنگ کے ذریعے ان کے مواصلات میں خلل ڈالے لیکن ان میں سے کوئی بھی درخواست وسیع پیمانے پر قابل قبول واقع نہیں ہوئی۔

دو سینئر امریکی اہلکاروں اور ایک سابق سینئر امریکی اہلکار نے بھی کہا کہ واشنگٹن نے ریاض پر یمن میں سعودیوں کے ماتحت [نام نہاد] حکومت کی بکھری ہوئی ملیشیاؤں کو متحد کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔
امریکہ نے منصوبہ بندی اور یمنی افواج کے بارے میں انٹیلیجنس معلومات کے میدان میں، مدد فراہم کی لیکن واضح طور پر اعلان کیا کہ یہ حمایت محدود ہوگی اور اس میں فضائی حملے شامل نہیں ہوں گے۔
یہ ہنوز واضح نہیں ہو سکا ہے کہ سعودی عرب امریکی لڑاکا طیاروں اور ہتھیاروں کے زیادہ وسیع استعمال کے ساتھ جنگ میں داخل کیوں نہیں ہؤا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ