اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حسن فضل اللہ نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ ہمیشہ داخلی مفاہمت اور مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے اور اگر اسرائیلی فوج لبنان کی تمام مقبوضہ اراضی سے مکمل انخلا کرتی ہے تو تنظیم قومی سلامتی کی حکمت عملی پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے حکام پہلے جنوب میں مکمل سکیورٹی قائم کریں۔ ان کے بقول، مزاحمت کو غیر مسلح کرنے، جنگ یا امن کے فیصلے پر گفتگو سے پہلے حکومت کو جنوب میں اپنی خودمختاری ثابت کرنی چاہیے۔
فضل اللہ نے موجودہ حکومت پر جنوبی لبنان کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کرکے ریاست نہیں چلائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جنوب میں تعمیر نو میں تاخیر بھی ناقابل جواز ہے، جبکہ حزب اللہ نے حکومت کو متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے پاس جنوبی لبنان کے متاثرین اور بے گھر افراد کی مدد کے لیے ایک جامع منصوبہ موجود ہے، جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
حسن فضل اللہ نے کہا کہ اگر حکام عوام کا تحفظ نہیں کر سکتے تو انہیں عوام کے اپنے دفاع کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر سکیورٹی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے داخلی مفاہمت اور مذاکرات پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ