بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || چین کے حوالے سے ایک عام سوال یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تقریباً 600 ارب ڈالر کا تجارتی حجم ہونے کے باوجود، اس نے امریکی پابندیوں ـ خاص طور پر ایران (جس کے ساتھ اس کی تجارت صرف 60 ارب ڈالر ہے) کے خلاف فضائی ناکہ بندی پر مبنی پابندیوں ـ کا ساتھ دینے سے انکار کیوں کرتا ہے؟
مزید برآں، وسطی ایشیائی ممالک کو 'ابراہیم معاہدوں' (Abraham Accords) میں شامل کر کے، امریکہ خطے میں صہیونی رجیم کا اثر و رسوخ بڑھانے ـ خاص طور پر چین کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں (سیلز) کا قیام اور ان کی تشکیل اور تقویت ـ کی کوشش کرکے اپنا ایجنڈا بڑھا رہا ہے۔
وسطی ایشیائی خطہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے پڑوس میں واقع ہے؛ اور یہ امریکی ایجنڈا بذاتِ خود چین کے لئے ایک منفرد چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایران نے اب تک امریکہ مخالف اور انسدادِ دہشت گردی پر مبنی مؤقف اپناتے ہوئے، امریکہ کے ان مختلف اقدامات کے مکمل اثرات کو روک رکھا ہے جن کا مقصد چین کا جغرافیائی گھیراؤ کر کے اسے مکمل طور پر مفلوج کرنا تھا۔
از این رو، در صورت تضعیف یا بیثباتی در ایران، با تسری ناامنی به مرزهای غربی چین، این کشور تحت تهدیدات امنیتی و تجزیهطلبانه قرار میگیرد و مسیرهای تجاری آن با خطر محاصره و مسدود شدن مواجه میشود.
نتیجتاً، اگر ایران کمزور یا غیر مستحکم ہوتا ہے، تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عدم تحفظ کی لہر چین کی مغربی سرحدوں تک پھیل جائے گی، جس سے اس ملک کو سیکیورٹی اور علیحدگی پسندانہ خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ساتھ ہی اس کے تجارتی راستوں کو بھی گھیر لیا جائے گا اور چین ناکہ بندی کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔
چنانچہ چین کے لئے ایران کی ضرورت انتہائی بنیادی ہے۔ ایران کا کردار چین کی قومی سلامتی سے اٹوٹ تعلق رکھتا ہے۔ اور تجارتی تعلقات کا موجودہ کم حجم اس رشتے کو کوئی اسٹریٹجک نقصان نہیں پہنچاتا۔
یہ عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ چین جیسی سپر پاور کو بھی ایران کی جغرافیائی سیاست (Geopolitics) پر انحصار کرنا پڑتا ہے؛ ایک ایسا منظرنامہ جس میں آبنائے ہرمز ایک کلیدی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس آبنائے کو محفوظ بنانا ـ خواہ اس کے لئے ابتدائی طور پر بھاری اخراجات ہی کیوں نہ اٹھانا پڑیں ـ ایران کے ساتھ ساتھ، چین کے لئے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کے طویل مدتی فوائد انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
مزید برآں، ایران چین کی جغرافیائی-سیاسی ضروریات کو مسلسل پورا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے جس کے پیشِ نظر، ایران کے لئے اس تعلق میں ایک اسٹراٹیجک نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے: استحکام کو فروغ دینے کے بدلے میں اسے تزویراتی مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے: جیسے مسافر بردار طیاروں اور پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لئے ہوا بازی کی صنعت میں شراکت داری، خلائی شعبے میں تکنیکی ترقی کی صلاحیتوں تک رسائی (بشمول خلائی اسٹیشن، سیٹلائٹ، اور لانچنگ کا بنیادی ڈھانچہ)، اور ٹیلی کمیونیکیشن کی صنعت میں مائیکرو الیکٹرانک چپس کی تیاری میں تعاون۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ