26 ستمبر 2026 - 13:07
ایران نے جنگ میں پہل اپنے پاس رکھ لی ہے/ خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی ختم ہوگئی، ویلکرسن - 3

امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق وزیر خارجہ جنرل کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف نے جاری ایران-امریکہ جنگ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ تیز رفتار میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ظہور نے بحری طاقت کی روایتی برتری کو چیلنج کر دیا ہے اور ایران کشیدگی بڑھانے کے عمل میں پہل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ / موجودہ صورتحال واشنگٹن کے لئے ایک "بہت مہنگا تعطل" ہے اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے خاتمہ ممکن ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سلامتی کا جو نظام واشنگٹن نے کئی دہائیوں تک جنوب مغربی ایشیا کے خطے پر مسلط کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا، اب ایران کی نئی تسدیدی طاقت کے سامنے ایک تزویراتی تعطل سے دوچار ہے۔ امریکی سمندری ہتھیاروں کو نشانہ بنانے میں ایران کی فوجی کامیابی، روایتی بحری تسلط سے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے تسلط کے دور میں ایک تکنیکی منتقلی کی مانند ہے، جس نے طاقت کا توازن امریکہ کے نقصان میں، بدل دیا ہے، جس نے خود اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔

تیسری قسط:

کرنل لارنس ویلکرسن (Col. Lawrence Wilkerson) یہ ادارے اپنے فیصلہ سازوں کے لئے تزویراتی معلومات تیار کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے؛ بلکہ ان کی توجہ خفیہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ پر مرکوز ہے ـ "زیادہ سنسنی خیز" سرگرمیاں جن کے لئے بھاری انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں اور ـ ان کا مقصد کسی بھی طریقے سے "دشمنوں" کو نقصان پہنچانا، انہیں بدنام کرنا یا کمزور کرنا ہے۔ جب اسٹراٹیجک انٹیلی جنس کبھی کبھار اپنے مطلوبہ وصول کنندگان کو آشکار کرنے یا ان تک رسائی میں کامیاب ہوتی ہے، تو اس کی پیداوار کے لئے کی جانے والی کم از کم کوشش اور اس کام کے لئے مختص محدود عملے اور بجٹ کی وجہ سے، یہ شاذ و نادر ہی بہترین یا بروقت معلومات ہوتی ہے۔ یہ خفیہ سروس کی کارروائیوں سے بالکل متصادم ہے جو ہزاروں ملازمین کی خدمات حاصل کرتی ہیں اور اربوں ڈالر، پاؤنڈ یا شیکل خرچ کرتی ہیں۔"

سنہ 1988ع‍ میں ایرنسٹ ول کی کاروائی  سے سنہ 2026ع‍ کی جنگ تک؛ ایران کی فوجی طاقت کی تبدیلی کے بارے میں ویلکرسن کا بیانیہ

انھوں نے اس سوال کے جواب میں ـ کہ واشنگٹن اقتصادی اوزاروں پر بھروسہ کرتے ہوئے ایران کے اندرونی انہدام یا تزویراتی پسپائی کی توقع رکھتا تھا، لیکن کیا تہران کے کنٹرول شدہ حملوں کا امتداد اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی تزویراتی برداشت نے امریکہ کی لاگت-فائدہ فارمولے کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے؟ ـ کہا: "جی ہاں، ایسا ہی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر، ایران نے نام نہاد "امریکی سامراج" کے دعوؤں کے جھوٹ کو آشکار کر دیا۔ امریکی سامراج ـ ایران اور عراق کی بے رحم جنگ کے اختتام پر، اپنی سنہ 1987ع‍ اور سنہ 1988ع‍ میں، "ارنسٹ ول کاروائی (Operation Earnest Will)" اور "پرائینگ مینٹس کاروائی" (Praying Mantis Operation)  کے دوران ـ اپنی طاقت کے عروج پر تھا؛ جبکہ ایران، جو عراق کے ساتھ خونریز جنگ کی وجہ سے تھک چکا تھا لیکن مجموعی طور پر میدان کا فاتح تھا، فوجی لحاظ سے اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ کسی اور دشمن سے بھی الجھ سکے۔

بالآخر آیت اللہ خمینی نے اس کے بعد کہ امریکی جہاز "یو ایس ایس ونسنس" (USS Vincennes) نے ایران کے شہری مسافر بردار جہاز کو مار گرایا اور اس کے تمام مسافر جان سے گئے، جنگ کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کیا۔ (قرارداد 598 کی قبولیت کے بارے میں امام خمینی کے بیانات کی طرف اشارہ۔) اس موقع پر، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے سامراج کے سامنے شکست سے بچنے کے لئے اپنا کام شروع کیا۔

اب، 38 سال گذرنے کے بعد، ایران اور سپاہ پاسداران نے ایک بہت طاقتور فوجی طاقت قائم کی ہے جو بنیادی طور پر انتہائی جدید بیلسٹک میزائلوں، ڈرون طیاروں اور دیگر فضائی ہتھیاروں پر استوار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ کی فوجی طاقت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ اس طرح، سنہ 2026ع‍ میں، سامراج اپنی شروع کردہ موجودہ جنگ میں مکمل شکست سے دوچار ہو رہا ہے۔

جب ہم اس معاملے کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں ایک دلچسپ تاریخی طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اگرچہ ایسی صورتحال سامراجی قوتوں کی زندگی میں ـ خاص طور پر آج کے امریکی سامراج میں، جو انتہائی کمزور قیادت کا شکار ہے، ـ غیر معمولی نہیں ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha