3 نومبر 2026 - 11:03
حصۂ اول | کلاسیکی ڈيٹرنس سے گہرائیوں میں مقابلے کے نظریئے تک

ایسے حال میں کہ واشنگٹن اور تل ابیب حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی آپشنز میز پر رکھنے کے دعوے کر رہے ہیں، رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے مسلح افواج کے سینئر کمانڈروں کے لئے اپنی ہدایات میں، ایک مرکزی نقطے پر ملکی فوجی ڈاکٹرائن کی تعریف نو کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا دہشت گردانہ جارحیت سے "فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ما وراء" جواب کے ساتھ، نمٹا جائے گا، اور یہ ایران ہی ہے جو کسی بھی نئی جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط طے کرے گا۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ فرمان ایک وقتی-تدبیری دھمکی نہیں بلکہ یہ ایک "نظریئے یا ڈاکٹرائن" کا اعلان ہے۔ ایسا نظریہ جو بازداری (تسدید یا ڈیٹرنس) کو کسی بھی مسلط کردہ جنگ کا سد باب کرنے کے روایتی مفہوم کو عبور کرکے، جنگ شروع ہونے کے بعد، اس کا انجام کنٹرول اور متعین کرنے کی طرف منتقل کرتا ہے۔

جغرافیائی حدود سے ماوراء ہونے مطلب

"جغرافیائی حدود سے ماوراء (یعنی جنگ کے جغرافیے کی عدم پابندی)" کا جملہ، جسے فنانشل ٹائمز، سی بی ایس اور ایکسیوس سمیت بین الاقوامی ذرائع نے نمایاں کر دیا، عملی طور پر سرحدوں پر دفاع کے نظریئے کو ترک کرنے اور آس پاس کی دنیا کی گہرائیوں میں مقابلے کا نظریہ اپنانے کے ہم معنی ہے۔ اس فرمان کے مطابق، اگر امریکہ یا اسرائیل کسی بھی مقام سے، چاہے خطے میں اپنے فوجی اڈوں سے، چاہے سمندری یا فضائی حدود سے، ایران کے خلاف کوئی اقدام کریں، تو ایران کا جواب لازماً اسی مقام تک محدود نہیں ہوگا اور وہيں رکے گا نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے خطے میں، اور خطے سے بہت آگے، ایران کی مسلح افواج کے ٹارگٹ بینک میں شامل ہو گئے ہیں۔

غیر مادی اثاثوں میں سائبر ڈھانچے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس، یا اقتصادی اور سفارتی مفادات شامل ہو سکتے ہیں۔ فرمان کا یہ حصہ براہِ راست ’سرحد پار جوابی کارروائی‘ کے نظریئے کی طرف اشارہ ہے، جو حالیہ برسوں میں ایران کے عسکری لٹریچر میں مستحکم ہو چکا ہے۔

اے بی سی نیوز (ABC News) سمیت مغربی ذرائع نے اس فرمان کی اس طرح تشریح کی ہے کہ "تہران جنگ کا دائرہ پورے خطے اور ممکنہ طور پر اس سے آگے تک پھیلانے کے لئے تیار ہے۔"

ادھر اسلامی جمہوریہ یران کی فوج کے ترجمان نے بھی اعلان کیا کہ نئی جارحیت کی صورت میں امریکہ کی تنصیبات، سازوسامان، اہلکار اور مفادات جہاں بھی دستیاب ہوں نشانہ بنائے جائیں گے۔ اس "جہاں بھی" کی اصطلاح میں منطقی طور پر امریکی سرزمین بھی شامل ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر "جغرافیائی حدود سے ماوراء" کے جملے کو زیادہ تر مغربی ایشیا کے خطے اور وہاں امریکی اثاثوں کے فریم ورک میں سمجھا جاتا تھا؛ تو امریکی سرزمین پر براہ راست ضرب کو [امریکی] مفادات کی پرتوں میں شامل کرنے سے، یہ نظریہ اپنے زیادہ درست معنی کے قریب آ جاتا ہے یعنی یہ کہ "کوئی پہلے سے طے شدہ جغرافیائی سرحد نہیں ہے جو ایران کی جوابی کاروائیوں کو محدود کر دے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: اردشیر زابلی زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha