20 ستمبر 2026 - 14:42
مکہ اتحاد ریاض کی فوجی مدد کے لیے تیار

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو درپیش فوجی ضروریات، خصوصاً تکنیکی شعبوں میں، مکہ اتحاد کے تحت تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اتحاد کے رکن ممالک ایک دوسرے کے تحفظ اور مدد کے ذمہ دار ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،ہاکان فیدان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ انقرہ، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان تشکیل پانے والا مکہ اتحاد اس وقت مضبوط مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور اسے عملی شکل دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اتحاد کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل پر کام جاری ہے، جبکہ معاہدے میں طے شدہ سیکریٹریٹ اور متعلقہ فوجی کمانڈ سینٹر کے قیام کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

فیدان نے کہا کہ مکہ اتحاد مستقبل میں ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ترکیہ سعودی عرب کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا حصہ بنتا نہیں دیکھنا چاہتا اور ریاض کو اس تنازع سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ اتحاد کے رکن ممالک سعودی عرب کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، سعودی عرب کو بعض فوجی ضروریات، بالخصوص تکنیکی شعبوں میں، مدد درکار ہوسکتی ہے اور ترکیہ ان ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

فیدان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بنیادی ڈھانچے پر سنگین حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ اتحاد کے معاہدے میں رکن ممالک پر ایک دوسرے کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ترکیہ اس معاملے میں یکجہتی کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے حوالے سے فیدان نے کہا کہ انقرہ کو امید ہے کہ اسرائیل ایسی خارجہ پالیسی اختیار کرے گا جو امن، احترام اور تعاون پر مبنی ہو، بصورت دیگر اس کے نتیجے میں خطے میں مزید تنہائی اور مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے یوکرین جنگ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے بعض منصوبے زیر غور ہیں، تاہم اس مرحلے پر پائیدار نتائج حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha