بین الاقوامی اہل بیت نیوز ایجنسی ـ ابنا || سابق امریکی وزیر خارجہ، "ہلیری کلنٹن" نے نیویارک کے جڑواں ٹاورز پر حملے (9/11) کی برسی کے موقع پر ایم ایس نو (M.S Now) ایک گفتگو میں 11 ستمبر 2001 کے بعد شروع ہونے والی عراق اور افغانستان کی جنگوں پر روشنی ڈالی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا تذکرہ کیا۔
دوسری قسط:
ہم نے اپنے ہاتھوں سے ایران کو مضبوط کر دیا ہے
کلنٹن نے گذشتہ 25 سالہ حالات و واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "ساتھ ہی ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ آج ہم کہاں ہیں، کیا ہم وہی لوگ نہیں ہیں جو ایران کو مضبوط کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے گذشتہ 25 سال میں کئے گئے واقعات سے کچھ نہیں سیکھا؟"
ہلیری نے دعویٰ کیا کہ ایران "نہ صرف چین اور روس کی ترغیب سے بلکہ ان دو ملکوں کی مدد سے" امریکہ کے 'اپنے' اور 'اپنے اتحادیوں کے' دفاع کی صلاحیت کم کرنے کے لئے انتہائی دانشمندانہ کھیل کھیل رہا ہے۔
کلنٹن نے کہا: "جب ایران میزائل اور ڈرون داغتا ہے، تو ہم مقابلے کے لئے پیٹریاٹ سسٹم کے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنا یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں انہیں یوکرین بھیجنا ہے لیکن ہمارے ذخائر خالی ہو رہے ہیں اور ہمیں اپنے لئے درپیش ممکنہ خطرات پر نظر رکھنا پڑ رہی ہے۔"
اس نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کی صلاحیت کھو دے تو یہ معاملہ تائیوان جیسے ممالک کے حساب کتاب پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا: "اگر آپ اس وقت دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو یہ امریکہ کے لئے موزوں نہیں ہے اور میں دلیل دیتی ہوں کہ اس کا بڑا حصہ اس حکومت کے انتہائی غلط فیصلوں کی وجہ سے پیش آیا ہے۔"
امریکہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے
مزید، ایم ایس نو کے میزبان نے ایران کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کی جنگ کے برعکس، جس کے لئے امریکی حکومت نے عوامی رائے کے سامنے ایک دلیل پیش کی تھی، اس بار لوگ ایک صبح بیدار ہوئے اور ٹرمپ کو یہ اعلان کرتے دیکھا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔
میزبان نے ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ اہداف، جن میں "حکومت کی تبدیلی"، جوہری پروگرام کے خاتمے اور ایران کے فوجی و سیاسی ڈھانچے کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات شامل تھے کا حوالہ دیا اور پوچھا کہ جنگ کے آغاز کے سات ماہ بعد امریکہ کے لئے بہترین ممکنہ نتیجہ کیا ہے اور واشنگٹن کا ہدف کیا ہونا چاہئے؟
کلنٹن نے جواب دیا: "ہم انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔"
اس کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بہترین نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ "انتہائی مرکوز" انداز میں عمل کرے اور کوشش کرے کہ یورپ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ چین کو بھی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لئے ایران پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اپنے ساتھ ملا دے۔
کلنٹن نے کہا: "میرا خیال ہے کہ ہمیں موقع دینا چاہئے تاکہ ٹرمپ یہ کہہ سکے کہ 'میں نے آبنائے کھول دیا'۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: میثم یعقوبی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ