10 ستمبر 2026 - 17:31
المخا میں بجلی کی تیزی سے پیشقدمی، انصار اللہ باب المندب کے دروازے پر + ویڈیو

ذرائع کے مطابق، یمنی افواج نے المخاء کے ساحلی علاقے میں بجلی کی سی تیزی سے پیشقدمی کرکے سعودیوں کے کرائے کے فوجیوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ پیشقدمی شمال سے ساحل کی جانب اور مشرق سے المخا کی تزویراتی بندرگاہ کے ہوائی اڈے تک جاری رہی ہے۔ شائع ہونے والی تصاویر کے مطابق، سعودی ملیشیائیں کئی محاذوں پر شکست و ریخت سے دوچار ہو کر، فرار ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہ پیشقدمی شمال سے ساحل کی جانب اور مشرق سے المخا کی تزویراتی بندرگاہ کے ہوائی اڈے تک جاری رہی ہے۔ شائع ہونے والی تصاویر کے مطابق، سعودی ملیشیائیں کئی محاذوں پر شکست و ریخت سے دوچار ہو کر، فرار ہو گئے ہیں۔

المخا میں بجلی کی تیزی سے پیشقدمی، انصار اللہ باب المندب کے دروازے پر + ویڈیو

رپورٹ کا خلاصہ:

یمنی اقواج نے المخا بندرگاہ میں تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے شمال سے ساحل اور مشرق سے ہوائی اڈے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، انصاراللہ کے مجاہدین نے اس اسٹراٹیجک بندرگاہ کو سعودی قابضوں سے آزاد کرا لیا ہے؛ جبکہ متعدد محاذوں پر سعودی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے فرار اور تِتَّر بِتَّر ہونے کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

یمنی مسلح افواج نے المخا کے سامنے واقع جزیرہ زُقر سمیت دیگر جزیروں پر حملے کئے اور ذو باب کے علاقے پر بھی حملہ شروع کر دیا، جہاں سے سعودی کرائے کے فوجیوں کی اجتماعی پسپائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

سعودی اتحاد نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب میں تقریباً 40 فضائی حملے کئے تاکہ صنعاء کی پیش قدمی میں رکاوٹ ثال سکے۔

سعودی حمایت یافتہ کرائے کی ملیشیاؤں کے کمانڈر طارق صالح نے المخا میں اپنی افواج کو پسپائی کا حکم دیا اور ذو باب میں نئی دفاعی لائنیں نیز ایک محفوظ مقام پر نیا ہیڈکوارٹر بنانے کی ہدایت دی؛ جبکہ ناظرین کہتے ہیں کہ اس کا یہ اعلان و ہدایت در حقیقت المخا سے پسپائی اور انخلاء کے مترادف ہے کیونکہ المخا میں سعودی حمایت یافتہ فوجی بالکل غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

المخا باب المندب سے تقریباً 60 تا 75 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور 2017 سے سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ نام نہاد "قومی مزاحمت" کا اہم ترین اڈہ تھا۔ الخا کی مکمل آزادی کے بعد انصاراللہ اور یمنی فوجیں جغرافیائی طور پر باب المندب اور بین الاقوامی بحری راستوں کے قریب پہنچ جائیں گی اور مغربی ساحلوں پر کرائے کے سعودی فوجیوں پر تمام راستے بند ہوجائیں گے۔

انصار اللہ اور یمن کی مسلح افواج نے ان علاقوں پر پہلے بھی کئی حملے کئے تھے۔

ماہرین کے مطابق، تعز صوبے کے محاصرے اور المخا اور ذو باب کی آزادی کے بعد اگلا ہدف تعز ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ المخا کی آزادی سعودی اور اماراتی اثر و رسوخ نیز صہیونی-امریکی منصوبے پر شدید دھچکا ہے، اور یہ پیش قدمی باب المندب پر کنٹرول کا تعین کرے گی۔

خبر کے سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد فرانس پریس نے مستعفی یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار اور عینی شاہدین کے حوالے سے تصدیق کی کہ "انصار اللہ اور یمنی فوج نے نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع شہر المخا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha