بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم کی سورہ صف کی آیات 6 سے 14، ایمان اور عمل کے درمیان سچائی اور ہمآہنگی کی ضرورت کے بیان کے سلسلے میں، دعوتِ الٰہیہ کی تاریخ کے اہم ترین موضوعات میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہیں؛ پیغمبروں کا 'مخالفین کی تکذیب، تحریف اور دشمنی' کا سامنا کرنا، اور بالآخر 'راہِ حق کی فتح' کا وعدہ دینا۔
دوسری اور آخری قسط:
وہ لین دین جو انسان کو نقصان سے بچاتا ہے
آیت 10 سے آیات کا لہجہ مؤمنین کی دعوت کی طرف مڑ جاتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ؛ (اے ایمان لانے والو! کیا میں تمہیں پتہ بتاؤں اس تجارت کا جو تمہیں نجات دے دردناک عذاب سے)"؛ اللہ تعالیٰ نجات کا راستہ سمجھانے کے لئے "تجارت" کا استعارہ استعمال کرتا ہے، ایسی تجارت جس میں انسان اپنا سرمایہ پیش کرتا ہے اور بدلے میں نجات اور سعادت حاصل کرتا ہے۔
آیات 11 اور 12:
"تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ * يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ؛ (وہ یہ ہے کہ) تم ایمان لاؤ گے اللہ اور اس کے پیغمبر پر اور جہاد کرو گے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو * تو اللہ بخش دے گا تمہارے گناہوں کو اور تمہیں داخل کرے گا ان بہشتوں میں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں اور پاک وپاکیزہ مکانات میں ہمیشہ والی زندگی کے باغوں میں؛ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔"
سورہ صف کی آیات 11 اور 12 اس سودے کی وضاحت کرتی ہیں: "تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ"؛ یہاں ایمان محض ذہنی اعتقاد نہیں؛ بلکہ جب حقیقت کو قبول کیا جائے تو اس کے لئے عملی میدان میں بھی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مال اور جان، دو سرمائے ہیں جنہیں مؤمن حق کی راہ میں صرف کرتا ہے۔
وہ وعدہ جو عمل سے شروع ہوتا ہے
اس تجارت یا لین دین کا اجر صرف اخروی نہیں ہے۔ آیت 13 "نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ؛ (مدد و نصرت اللہ کی طرف سے، اور قریبی فتح وکامرانی)" کا ذکر کرتی ہے؛ اللہ کی مدد اور قریبی فتح، پھر مؤمنین سے کہتی ہے: "وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ؛ (اور خوش خبری دے دیجئے ایمان والوں کو)"۔ لہٰذا، ان آیات کی منطق میں، 'نصرتِ الٰہیہ کی امید' 'بےعملی' اور بے حسی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ فتح کا وعدہ ایمان، جہاد اور تیاری کے ساتھ بیان ہؤا ہے۔ یہ وعدہ عمل سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ بے عملی سے۔
اگر حق کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہو تو حقیقت کے حامی بنو
اس حصے کی آخری آیت مؤمنین کو تاریخ کے ایک نمونے کی طرف بلاتی ہے: "كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ؛ (اللہ کے مددگار بنو جیسا کہ عیسیٰ فرزند مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہیں؟)"؛ اور حواریوں نے جواب دیا: "نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ؛ (حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں)"۔ "انصاراللہ" ہونے کا مطلب ہے خدا کے دین کا مددگار بن جانا اور 'کلمۂ حق' کے قیام کا راستہ ہموار کرنا۔
آیات اس استقامت کے نتیجے کے ساتھ ختم ہوتی ہیں: "فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ؛ (تو ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے، ان کے دشمن کے مقابلے میں، تو وہ غالب آ گئے)"؛ مؤمنین کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید اور مدد ملی اور بالآخر وہ غالب آ گئے۔

ان آیات کا مرکزی پیغام واضح ہے: حق کی راہ کا سامنا انکار، تحریف اور حقیقت بجھانے کی کوششوں سے [بھی] ہو سکتا ہے، مگر مؤمن کا جواب حق سے پیچھے ہٹنا یا نعروں پر انحصار کرنا، نہیں ہے، بلکہ ایمان، عمل، جہاد اور حقیقی طور پر "انصاراللہ" کے مقام پر کھڑا ہونا ہے۔ المیزان کے مطابق، نصرتِ الٰہیہ اس وقت معنی رکھتی ہے جب انسان بھی حق کی مدد میں اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔
قرآن کریم کے صفحہ 552 پر موجود ان آیات کی تلاوت دیکھیں اور سنیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ