22 اگست 2026 - 22:05
انصار اللہ کا سعودی عرب پر طنز: بیرونی اسلحے پر انحصار طاقت کی نہیں، کمزوری کی علامت ہے

یمن کی تحریک انصار اللہ کے ایک سینئر رہنما نے سعودی عرب کے دفاعی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقی فوجی طاقت کا معیار اسلحہ خریدنے کے بڑے معاہدے نہیں بلکہ مقامی سطح پر ہتھیار بنانے، ان کی دیکھ بھال اور ترقی دینے کی صلاحیت ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے ایک سینئر رہنما نے سعودی عرب کے دفاعی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقی فوجی طاقت کا معیار اسلحہ خریدنے کے بڑے معاہدے نہیں بلکہ مقامی سطح پر ہتھیار بنانے، ان کی دیکھ بھال اور ترقی دینے کی صلاحیت ہے۔

انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا کہ صنعاء اور ریاض کے درمیان سب سے نمایاں فرق عسکری خودکفالت کا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اپنی فوجی ضروریات کے لیے بیرونی اسلحہ اور دفاعی نظام پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جبکہ یمن مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر اور ترقی پر توجہ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر آزادانہ فیصلہ سازی اور مقامی پیداوار کسی بھی ملک کی دفاعی خودمختاری کا اہم جزو ہے، جبکہ بیرونی سپلائرز پر انحصار فوجی فیصلوں کو محدود کر سکتا ہے۔

محمد الفرح کا کہنا تھا کہ مقامی دفاعی صنعت کی ترقی سے یمن کو میدانِ جنگ کی ضروریات کے مطابق اپنے عسکری وسائل کو بہتر بنانے اور حالات کے مطابق نئے حل تیار کرنے کی زیادہ صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے یمن کے ان گروہوں کو بھی تنبیہ کی جو ان کے بقول بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام کو اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ملک کو مسلسل کشیدگی اور تنازعات میں دھکیلنے والی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

انصار اللہ کے رہنما نے مزید کہا کہ بعض میڈیا شخصیات مالی مفادات کے تحت گمراہ کن بیانیے پھیلا رہی ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ جنگی اور سکیورٹی صورتحال سے متعلق معلومات سرکاری اور مستند ذرائع سے حاصل کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ یمنیوں کی جدوجہد کا رخ بیرونی خطرات کی جانب ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے ہی عوام کے خلاف۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha