بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
'جہان خواروں کی دنیا' کی حالت ناساز ہے۔
ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لئے حضرت امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے اس ارشاد کے سوا کوئی چارہ نہیں: "میں پوری دنیا کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر جہان خوار ہمارے دین کے مقابلے میں کھڑے ہونا چاہیں تو ہم ان کی پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اور ان سب کی نابودی تک چین نہ بیٹھیں گے۔"
ایران پر جہان خوار امریکہ کے حملے کے دو بنیادی اہداف تھے:
1- ایران کے تیل کے وسائل پر قبضہ، یعنی امریکہ لئے دولت اندوزی۔
2- خطے میں اسرائیلی-امریکی تسلط کا قیام۔
موجودہ صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکہ اس حقیقت تک پہنچ جائے کہ 'فی الحال ان دو اہداف میں سے کوئی بھی دسترس میں نہیں ہے۔'
وہ کیسے؟
1- براہِ کرم خطے میں ایران کا نشانہ بننے والے واٹر پانی صاف کرنے والی تنصیبات نیز تیل کی تنصیبات کی فہرست شائع کریں۔۔۔ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں، ان تنصیبات کو اس طرح سے تباہ ہونا چاہئے کہ ان کی تعمیرِ نو میں کم از کم دو سال کا عرصہ لگ جائے۔ ایران پر حملہ معمول نہیں بننا چاہئے (Attacking iran should not be normalized)۔
2- یعنی امریکہ کو یہ جاننا اور سمجھنا چاہئے کہ اس کو نہ صرف اسے ایران کے تیل کے وسائل سے کوئی دولت حاصل نہیں ہوگی، بلکہ اسے کم از کم دو سال تک تیل کی اونچی قیمتوں کی ادائیگی بھی برداشت کرنا پڑیں گی۔
3- ملک سے جنگ کے سائے کو دور کرنے کا صحیح طریقہ، فوجی تسدید (Military deterrence) ہے۔
محدود تباہی، مطلوبہ تسدید پیدا نہیں کرتی؛ کیونکہ ٹرمپ ان تنصیبات کی محدود تباہی کو امریکی کمپنیوں کے لئے تعمیرِ نو کے منصوبے کا ایک مناسب موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن وسیع تباہی عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں کو کم از کم دو سال تک اونچا رکھے گی اور مطلوبہ تسدید بھی پیدا کرے گی۔ آبنائے ہرمز کے 'متبادل راستے' کو ایران کے فوجی اہداف میں اولین ترجیح ہونا چاہئے۔
اگر امریکیوں کو اس نتیجے پر پہنچا دیا جائے کہ ایران حقیقتاً اس انداز میں جواب دے گا تو وہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
4- تجربے نے ثابت کیا ہے کہ رعایتیں دینے اور مذاکرات کا راستہ جنگ کا سایہ دور نہیں کرتا۔ کیونکہ امامِ شہید کے قول کے مطابق "امریکہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے۔" یعنی رعایتیں، خواہ جتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اس کے لئے کافی نہیں ہیں۔ گذشتہ چار مہینوں میں ہمارے پاس امام شہید کے اس تجزیئے میں نقص یا خطا کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور یہ درست ثابت ہؤا ان کے تمام تر تجزیوں کی مانند۔
5- اصولاً ملک کی اولین ترجیح 'اس چکر کو توڑنا' ہونی چاہئے: "حملہ، جنگ بندی، مذاکرات، حملہ۔ بدقسمتی سے، راستے میں، امریکی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین حاصل کرنے کی طرف راستہ منحرف نہیں ہونا چاہئے۔
6- براہِ کرم ہرمز آبنائے کو کم از کم دو ماہ تک حقیقتاً بند کر دیں۔ امریکہ نے ابھی تک ایران پر حملے کی معاشی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ ایران پر حملے کی قابلِ برداشت لاگت کا مطلب ہے وسیع پیمانے پر دوبارہ حملہ۔ اسلامی انقلاب کے پہلے 46 سالوں میں ایران پر فوجی حملہ نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ امریکہ کو اندازہ تھا کہ ایران پر حملے کی لاگت زیادہ ہے۔ امریکہ کے حسابات، تخمینوں اور اندازوں کو اسی حالت میں واپس جانا چاہئے۔
کچھ حکام نے کہا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں ملک کے تمام سطحی تیل کو اونچی قیمتوں پر فروخت کر دیا گیا اور رقم وصول کر لی گئی ہے۔ ملک کے پاس اگلے دو مہینوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے موجود ہیں۔
7- براہِ کرم حکام کو ملک کو پابندیوں کے طویل مدتی خاتمے یا 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وہم میں معطل نہ کریں۔
8- براہِ کرم آبنائے ہرمز کی محدود بحالی کے بعد محصول وصول کرنا فراموش نہ کریں۔
اگر ایران آبنائے ہرمز میں محصول وصول نہیں کرتا تو امریکہ اور برطانوی بیمہ کمپنیاں وصول کریں گی۔ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ "آبنائے ہرمز پیسے چھاپنے کی مشین ہے"۔ اور اب ٹرمپ 20 فیصد محصول لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی آمدنی کی صلاحیت کے بارے میں بین الاقوامی تخمینے:
روئٹرز: 100 ارب ڈالر
آکسفورڈ پریس تھنک ٹینک: 80 ارب ڈالر
جے پی مورگن (امریکا کی سب سے بڑی مالیاتی خدمات اور بینکنگ کمپنی): 70 سے 90 ارب ڈالر کے درمیان...
یعنی تیل کی فروخت سے دو گنا زیادہ۔
محصول وصولی کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ایران سمندری حقوق کے کنونشن کا رکن نہیں ہے۔ معقول محصول وصولی ایران کو دنیا میں تنہا نہیں کرے گی۔ لوگ ادا کریں گے، یا انہیں ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ انہیں خلیج فارس کا تیل، گیس، کھاد، وغیرہ وغیرہ چاہئے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم ڈاکٹر فؤاد ایزدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ