اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکہ نے کم از کم 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرون کھو دیے، جو جنگ سے پہلے موجود اس کے مجموعی بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی بنتے ہیں۔
اخبار کے مطابق، امریکی وزارتِ جنگ کی معلومات سے واقف تین حکام نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 45 ریپر ڈرون ضائع ہو چکے ہیں۔ جنگ سے قبل امریکی فوج کے پاس تقریباً 185 ایسے ڈرون موجود تھے۔
ایم کیو-9 ریپر امریکی فوج کے اہم نگرانی اور حملہ آور ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی قیمت اس میں نصب آلات اور ہتھیاروں کے لحاظ سے تقریباً 30 سے 50 ملین ڈالر تک ہوتی ہے۔ اس حساب سے صرف اس جنگ میں ضائع ہونے والے ڈرونز کی مجموعی مالیت 1.3 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز ان ڈرونز کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے، تاہم ان کی نسبتاً کم رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت انہیں ایرانی فضائی دفاع اور یمن و عراق میں ایران کے اتحادی گروہوں کے حملوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور بناتی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ تمام ڈرونز کو مار گرایا نہیں گیا؛ بعض ڈرونز اپنے آپریٹرز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد بھی گر کر تباہ ہوئے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کو صرف ڈرونز کے نقصانات ہی کا سامنا نہیں، بلکہ جنگ کے باعث اس کے ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی شدید دباؤ پڑا ہے۔ جنگ کے پہلے ہی ماہ امریکی فورسز نے 850 سے زیادہ ٹاما ہاک کروز میزائل اور ایک ہزار سے زائد پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل فائر کیے۔
اس صورتحال نے امریکی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو تیزی سے دوبارہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ اور پینٹاگون کے ذخائر کی بحالی کے لیے کانگریس سے 67 ارب ڈالر کی اضافی رقم طلب کی ہے۔
رپورٹ میں امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بعض اہم امریکی ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت پینٹاگون کی ضروریات سے کہیں کم ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ اس وقت سالانہ زیادہ سے زیادہ 96 تھاڈ میزائل تیار کر سکتا ہے، جبکہ پینٹاگون نے اگلے سال کے لیے 857 اور آئندہ پانچ برسوں کے لیے تقریباً 2600 میزائلوں کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
تجزیے کے مطابق موجودہ پیداواری رفتار برقرار رہنے کی صورت میں صرف پانچ سال کی مطلوبہ تھاڈ میزائل کی تعداد پوری کرنے میں تقریباً 27 سال لگ سکتے ہیں۔
دریں اثنا، امریکی وزیرِ جنگ نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث دفاعی بجٹ پر بڑھتا دباؤ پینٹاگون کو فوجی تربیت میں کمی پر مجبور کر سکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مطلوبہ اضافی بجٹ منظور بھی ہو جائے، تب بھی امریکی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ذخائر کو تیزی سے بحال کرنا آسان نہیں ہوگا اور بعض استعمال شدہ ہتھیاروں و آلات کی مکمل جگہ لینے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ