22 ستمبر 2026 - 16:53
سعودی عرب پھر ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوشش میں، یمن اپنے مطالبات پر قائم

یمن پر فوجی دباؤ ڈالنے میں ناکامی اور امریکہ کی براہِ راست مداخلت سے گریز کے بعد سعودی عرب نے ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرلیا ہے، تاہم انصار اللہ یمن نے ریاض کی نئی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بنیادی مطالبات پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ ہفتوں کے دوران یمن پر فوجی دباؤ ڈالنے میں سعودی عرب کی ناکامی، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے وسیع حملوں میں سعودی عرب کو نشانہ بنائے جانے اور ریاض کے اتحادیوں کی جانب سے براہِ راست مداخلت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد سعودی عرب علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے مزید تجاویز پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن اب بھی ان تجاویز کو مسترد کر رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یہ تجاویز یمن کے کم از کم مطالبات بھی پورے نہیں کرتیں۔

ترکی کی ثالثی میں یمنی فریق کو سعودی عرب کی گہرائی میں حملے روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ناکام ہونے اور چین سمیت علاقائی و بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے ریاض کی جانب سے پیش کی گئی سابقہ امن تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے گزشتہ چند دنوں کے دوران تیسری مرتبہ مذاکرات کا راستہ کھولنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس بار اس مقصد کے لیے یمن کے امور کے بارے میں اقوام متحدہ کے نمائندے ہانس گرونڈبرگ کو استعمال کیا گیا ہے۔

گرونڈبرگ کی انصار اللہ کے مذاکرات کار سے ملاقات

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا نے رپورٹ کیا کہ گرونڈبرگ نے گزشتہ روز مسقط میں انصار اللہ یمن کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام سے ملاقات کی۔

عبدالسلام نے اس ملاقات میں ایک بار پھر یمن کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، اقتصادی اور انسانی پابندیاں اٹھانے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے انسانی مطالبات کو کسی شرط کے بغیر پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور سعودی عرب کو ان مطالبات کا جواب نہ دینے کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیا۔ عبدالسلام نے یمن کے مختلف محاذوں پر فوجی قوتیں جمع کرنے اور مختلف گروہوں کو مسلح کرنے کے سلسلے میں سعودی عرب کو خبردار بھی کیا۔

ریاض کی اقتصادی مذاکرات بحال کرنے کی تجویز

الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک باخبر سیاسی ذریعے نے کہا کہ سعودی عرب اب بھی خود کو یمن میں جنگ اور محاصرے کی قیادت کرنے والے فریق کے بجائے امن کے ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس ذریعے کے مطابق ریاض اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اور موجودہ تنازع کو یمنی فریقوں کے درمیان داخلی تنازع کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یمن کو پیش کی گئی تجاویز کے بارے میں اس ذریعے نے بتایا کہ ریاض نے اقوام متحدہ کو تجویز دی ہے کہ اقتصادی معاملے پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور یمنی فریقوں کے درمیان اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ تیل کی پیداوار اور برآمدات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا جاسکے۔

اس تجویز کے تحت تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی یمن کے مختلف صوبوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص کی جائے گی۔

ٹرمپ کی انصار اللہ کے خلاف سعودی حملے کی درخواست سے مخالفت

سعودی عرب کی جانب سے مذاکرات کی دوبارہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے خلاف فضائی حملے کرنے کی سعودی درخواست سے اختلاف کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کئی ہفتوں تک سعودی عرب کی درخواستوں پر تذبذب کا شکار رہے، تاہم گزشتہ جمعرات کو یہ معاملہ اس وقت عروج پر پہنچا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ایک بار پھر مداخلت کا مطالبہ کیا۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل اپنے مشیروں سے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ وہ فضائی حملوں کے حق میں نہیں ہیں۔ تاہم بن سلمان سے گفتگو کے بعد انہوں نے اپنا موقف تبدیل کیا اور امریکی وزارت دفاع کو تیار رہنے کا حکم دیا۔

تاہم گزشتہ روز دوپہر تک ایسا محسوس ہورہا تھا کہ امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے اور متعلقہ حکام کو بتایا ہے کہ کم از کم موجودہ حالات میں یمن کے خلاف امریکی فضائی حملہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بیشتر ارکان نے امریکہ کے اس جنگ میں شامل ہونے کی مخالفت کی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی فوج کو ایران کے خلاف جنگ کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔

واشنگٹن کو فوجی حملے کی کامیابی پر شبہات

ٹرمپ نے گزشتہ روز صبح فاکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ وسیع تر جنگ میں امریکہ کے اگلے اقدام کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

انہوں نے انصار اللہ کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اس تحریک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کہا کہ اس گروہ نے اب تک امریکہ کے خلاف جنگ میں داخل نہ ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق موقف میں یہ تبدیلیاں امریکی صدر کو درپیش مشکل اور تعطل کی نشاندہی کرتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب یمن کے سعودی عرب کے خلاف حملے جاری ہیں۔

اگرچہ بعض امریکی فوجی حکام کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو ریاض کی مدد کرنی چاہیے، تاہم مشرق وسطیٰ میں خدمات انجام دینے والے بعض موجودہ اور سابق امریکی سفارت کاروں اور فوجی کمانڈروں نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا محدود امریکی بمباری کی مہم انصار اللہ کو مذاکرات پر مجبور کرسکتی ہے اور اسے اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرسکتی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگ قوتوں کی حمایت کی مؤثریت پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان قوتوں کو گزشتہ ہفتوں کے دوران یمن کی مسلح افواج کے ساتھ پہلی بڑی جھڑپ میں پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔

ان حکام نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکہ یمن کی مسلح افواج کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو یہ فورسز ایک بار پھر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

ان میں سے ایک عہدیدار نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام جاری رہنے کی صورت میں دنیا کو جلد ہی آبنائے باب المندب کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے راستے میں مزید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنوبی تعز میں انصار اللہ کی پیش قدمی

میدانی صورتحال میں یمن کی مسلح افواج نے تعز شہر کے جنوبی دروازے کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہے۔

یمنی فورسز گزشتہ روز میدان جنگ کو اسٹریٹجک راسن پہاڑی سلسلے سے بنی عمر کے علاقے تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئیں، جو السمسرہ کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ الشمایتین ضلع کی حدود میں ہے اور الحجرية علاقے کے مرکز التربہ شہر کے قریب واقع ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یمن کی مسلح افواج نے راسن اور بنی عمر کے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور جرداد کے علاقے میں درع الوطن فورسز اور العمالقہ بریگیڈز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ان ذرائع نے زور دیا کہ یمنی فورسز جنوبی تعز میں امداد پہنچانے والی اہم ترین شاہراہوں کو کاٹنے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ حزب الاصلاح سے وابستہ درجنوں فوجی کمانڈروں نے بھی شہر کے سقوط کے خدشے کے باعث تعز چھوڑ دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha