اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے سیاسی دفتر اور مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہیں بلکہ غزہ میں جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔
روسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں غازی حمد کا کہنا تھا کہ مجوزہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے غزہ پر اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دیں اور معاہدے سے متعلق طے شدہ حدود کی بھی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے کس طرح آمادہ کیا جائے۔ ان کے مطابق معاہدے کی متعدد شقیں طویل مذاکرات کے بعد تیار کی گئی تھیں، تاہم اسرائیل انہیں اپنی مرضی کے مطابق تشریح کرنا چاہتا ہے۔
غازی حمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن ان کی توجہ زیادہ تر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے ہتھیاروں پر رہی جبکہ اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں مزاحمتی گروپوں کے ہتھیار فلسطین کا داخلی معاملہ ہیں اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ فلسطینی عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔
حماس رہنما نے کہا کہ تنظیم نے جنگ بندی پر آمادگی غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ظاہر کی، تاہم وہ اپنے سیاسی مؤقف اور قومی اہداف سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔
غازی حمد نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم روس کے ساتھ مثبت تعلقات رکھتی ہے اور ان کے بقول روس کا مؤقف فلسطینی موقف سے ہم آہنگ ہے۔
آپ کا تبصرہ