27 جولائی 2026 - 01:19
اسلامی جمہوریہ ایران اور جدید مشرقِ وسطیٰ یا 'نئی علاقائی ترتیب'

امریکہ نے ایران کے ساتھ نئے سمجھوتے میں اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو ترک کرکے، گذشتہ ایک سال کے دوران تیسری بار بزدلی کے ساتھ، اس ملک پر فوجی حملہ کیا ہے۔ اس کی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ ایران مناسب حکمت عملی اختیار کرکے، اور جنگ میں اپنے اہداف کی سطح بلند کرکے اس تباہ کن رجحان کے تسلسل کو روک دے اور جنگ کے بادل ملک کی فضاؤں سے چھٹ جائیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ نے ایران کے ساتھ نئے سمجھوتے میں اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو ترک کرکے، گذشتہ ایک سال کے دوران تیسری بار بزدلی کے ساتھ، اس ملک پر فوجی حملہ کیا ہے۔ اس کی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ ایران مناسب حکمت عملی اختیار کرکے، اور جنگ میں اپنے اہداف کی سطح بلند کرکے اس تباہ کن رجحان کے تسلسل کو روک دے اور جنگ کے بادل ملک کی فضاؤں سے چھٹ جائیں۔

اس سلسلے میں چند نکات بہت اہم ہیں:

1- اسلامی انقلابِ کی کامیابی نے پہلوی حکومت کا تختہ الٹ کر ایران کے توانائی کے وسائل اور معیشت پر امریکی تسلط کا خاتمہ کر دیا؛ نیز مشرقِ وسطیٰ کے اسٹراٹیجک خطے میں امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔ امریکی حکومت گذشتہ کئی دہائیوں سے، مختلف جارحانہ اقدامات، پابندیوں اور جنگ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کے لئے کوشاں ہے تاکہ ایک بار پھر ایران پر اپنا تسلط جما کر مشرقِ وسطیٰ کے توانائی کے وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے۔

2- علاوہ ازيں، امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ ـ دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے ـ توانائی کے وسائل پر قابض ہو کر چین (جو اپنی زیادہ تر توانائی مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے) کے ساتھ مسابقت میں برتری حاصل کر سکتا ہے اور یک قطبی دنیا کو مستحکم کرکے اس میں اپنی حیثیت کو مضبوط کر سکتا ہے۔ وینزویلا میں امریکی اقدامات، ایران پر فوجی حملہ، اور آبنائے ہرمز پر قبضے کی کوششوں کو اسی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ درحقیقت امریکہ متعدد اہداف کی پیروی کر رہا ہے جو سب ایک ہی سمت میں ہیں۔

3- اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ـ اور خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں ـ امریکی حکمرانوں کے رویوں سے یہ ثابت ہؤا ہے کہ ان کا کوئی عہد و پیمان اور کوئی معاہدہ ہرگز قابلِ اعتماد نہیں ہے اور ان کی دستخط بے حیثیت و غیر معتبر ہیں۔ ایران کے ساتھ چھ ممالک کے ایٹمی معاہدے (JCPOA) میں، ـ جس کی اقوامِ متحدہ نے توثیق و ضمانت کی تھی ـ ایران کی طرف سے مکمل اور معاہدے سے بڑھ کر عمل درآمد کے باوجود، امریکی حکومت نے اوباما اور بائیڈن دونوں کے ادوار میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی حکومت میں ہی اس معاہدے کو پھاڑ ڈالا، جیسا کہ اس نے حالیہ معاہدے کو ترک کر کے ایک بار پھر عہد شکنی کی۔

4- ماضی کے تجربات کی روشنی میں، مذاکرات، معاہدوں، پابندیوں، جنگ اور جنگ بندی کے اس مکرر در مکرر چکر کو ایک مناسب حکمت عملی اختیار کر کے روکنا چاہئے تھا؛ جیسا کہ حالیہ معاہدے میں امریکی عہد شکنی کے پیشِ نظر، ایران کو آبنائے ہرمز کو برقرار رکھنے کی جنگ سے آگے بڑھنا چاہئے تھا اور اس جنگ میں اپنے اہداف کی سطح بلند کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کی بندش کو اپنا ہدف بنانا چاہئے تھا جو ہم ان دنوں ایران کی سفارتی اور فوجی رویوں میں دیکھ رہے ہیں اور ایران اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ نیا چکر ہے جس کو ایران خود وضع اور نافذ کرے گا؛ تاکہ امریکی حکومت کو معلوم ہو جائے کہ اس رجیم کی مزید جنگجوئی اس کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑے گی اور اب اس کو آبنائے ہرمز ـ جو اس نے کھو دیا ہے ـ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے بجائے، مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بقاء کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا پڑیں گے۔

5- ایران کی زیرک اور قوم متحد اور یکجان و یک جہت ہو کر ملک کے دفاع کے میدان میں موجود ہے۔ رہبرِ شہیدِ انقلاب کے جنازے میں ان کی بے مثال شان و عظمت نے دنیا کی نظریں خیرہ کر دیں اور دشمن کو مکمل طور پر مایوس کر دیا۔ ایران کی مسلح افواج نے بھی خطے میں امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا اور پہنچاتی رہیں گی۔ اس عمل کا تسلسل ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پر امریکی تسلط کا خاتمہ کر دیا جائے اور آبنائے ہرمز پر تسلط کے بعد ایران کا دوسرا مقصد حاصل ہو جائے۔ اس صورت میں، امریکی تسلط کے بغیر اور خطے کے ممالک کے باہمی تعاون سے نیا مشرقِ وسطیٰ تشکیل پانے کا راستہ ہموار ہو جائے گا اور ہموار ہو رہا ہے۔

ایک یاددہانی:

ایران کے متعلقہ ادارے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے قیمت ادا کرنے والی ایرانی قوم بالکل چوکس ہے اور بخوبی جانتی ہے کہ آبنائے ہرمز کچھ زیادہ قابل تقسیم نہیں ہے، یہ ایک متصل اور اٹوٹ آبی گذرگاہ ہے، اور اس کا کوئی شمال و جنوب نہیں ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق، جنگِ رمضان میں ایران کا عملی طور پر آبنائے ہرمز پر تسلط، اور حالیہ معاہدے کے مطابق اس آبنائے کا انتظام صرف ایران کے پاس ہے، اور اس میں عمان سمیت کوئی بھی دوسرا ملک شامل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: صادق خلیلیان

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha