اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے کہا ہے کہ ماسکو نے ابتدا ہی سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی سخت مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غیرقانونی جارحیت قرار دیا۔
کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رودینکو نے کہا کہ روس کا مؤقف شروع سے واضح رہا ہے اور حالیہ پیش رفت کے بعد بھی ماسکو کا خیال ہے کہ حاصل شدہ بعض مفاہمتوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے مفاد میں سفارتی کوششوں کا دوبارہ آغاز ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور دونوں ممالک اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں اقتصادی و تجارتی تعاون، بین الاقوامی شمال۔جنوب راہداری کی ترقی اور علاقائی امور میں مشترکہ تعاون سمیت کئی اہم شعبے شامل ہیں۔
رودینکو نے مزید کہا کہ روس نے شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مکمل رکنیت کی بھرپور حمایت کی تھی اور امید ہے کہ ایران آئندہ بھی اس تنظیم کو اپنے قومی مفادات کے لیے مؤثر پلیٹ فارم سمجھے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ممکنہ دورۂ تہران پر کام جاری ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
آپ کا تبصرہ