22 جولائی 2026 - 22:27
مآخذ: ابنا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی سب کے لیے نقصان دہ

روسی وزیر خارجہ سرگئو لاوروف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی یا عسکری تصادم کا سلسلہ نہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے اور نہ ہی تہران کے حق میں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،روسی وزیر خارجہ سرگئو لاوروف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی یا عسکری تصادم کا سلسلہ نہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے اور نہ ہی تہران کے حق میں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔

لاوروف نے مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس اور چین ایران کو امریکہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے براہِ راست ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ الزامات بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض مغربی حلقے جان بوجھ کر ایسے دعوے کر رہے ہیں، حالانکہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ مختلف تنازعات میں امریکہ خود اپنے اتحادیوں کو اسلحہ، انٹیلی جنس معلومات اور دیگر فوجی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق موجودہ تنازع کب تک جاری رہے گا، اس بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے، تاہم مسلسل فوجی کشیدگی کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔

لاوروف نے خبردار کیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں جیسے واقعات دنیا کے بعض ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سوچ کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جو عالمی امن کے لیے تشویش ناک رجحان ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جہاں دونوں رہنما مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور، بشمول ایران اور یوکرین کی صورتحال، پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سرگئو لاوروف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس موجودہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ہی سب سے مؤثر اور قابلِ عمل سمجھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha