اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کے جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے صدر جوزف عون کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ لبنان کو اپنے علاقائی اتحادی اسرائیل کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے لبنانی قیادت پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد اور داخلی اتفاق رائے کو ترجیح دے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، شیخ احمد قبلان نے لبنانی عوام کے نام جاری بیان میں صدر جوزف عون کی پالیسیوں پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ لبنان کو امریکی مفادات کے مطابق چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے بحرانوں کا حل قومی مکالمے اور اتحاد میں ہے، نہ کہ ملک کے کسی حصے یا کسی مخصوص طبقے سے دوری اختیار کرنے میں۔
شیخ قبلان نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ نئے تنازعات اور سیاسی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے، جس کے اثرات لبنان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار لبنان کے قومی مفادات سے متصادم ہو سکتا ہے اور کہا کہ ملک کے مستقبل کے لیے قومی شراکت داری ضروری ہے۔
شیخ قبلان کے مطابق لبنان کو درپیش مسائل کا حل "قومی اتفاق رائے کی میز" پر موجود ہے، نہ کہ داخلی تقسیم یا کسی ایک فریق کو سیاسی عمل سے الگ کرنے میں۔
انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان کے اتحاد، قومی مفاہمت اور سیاسی شراکت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لبنان کے معاملات کا حل لبنانی شرائط اور مفادات کے مطابق ہونا چاہیے۔
شیخ قبلان نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری کے لیے فوج اور مزاحمتی قوتیں اہم ستون ہیں اور قومی دفاع کے معاملات کو صرف سیاسی اختلافات کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزاحمت کی تاریخ کو لبنان کے دفاع اور آزادی کی جدوجہد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
شیخ قبلان نے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی اتحاد، خودمختاری اور ریاستی مفادات کو ترجیح دیں۔
آخر میں انہوں نے لبنانی عوام سے کہا کہ وہ ملک میں قومی شراکت اور اتحاد کو مضبوط کریں تاکہ لبنان مزید بحرانوں سے بچ سکے۔
آپ کا تبصرہ