اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی وزارتِ خزانہ کے ماتحت بیرونی ترقیاتی فنڈ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ ایک سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عراقی وزارتِ خارجہ اور وزیرِ خزانہ کے دفتر کی جون کے آخر اور جولائی کے اوائل میں ہونے والی خط و کتابت کی روشنی میں کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق، امریکی وزارتِ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے داعش کے لیے مالی رقوم کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں تین افراد اور چھ اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
اس ہدایت میں حزب اللہ لبنان سے وابستہ متعدد ادارے بھی شامل ہیں، جنہیں امریکہ کے ترمیم شدہ ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13224 کے تحت پابندیوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حزب اللہ سے وابستہ مالیاتی اور لاجسٹک معاونت کے نیٹ ورکس کا مقابلہ کرنا ہے۔
یہ دستاویز عراقی بیرونی ترقیاتی فنڈ کے سربراہ اور وزارتِ خزانہ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل برائے اقتصادی امور کے دستخطوں سے جاری کی گئی ہے، جسے عمل درآمد کے لیے بینکوں، مالیاتی اداروں، کمپنیوں اور وزارتِ خزانہ کے ماتحت تمام متعلقہ شعبوں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقی وزیرِ اعظم کے سرکاری دورۂ واشنگٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ