اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں پر ایران کے حملے بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے استعمال کے زمرے میں آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے اقوام متحدہ کے ترجمان کے اس اظہارِ تشویش پر ردِعمل ظاہر کیا، جس میں ایران کی کارروائیوں کو خطے کے ممالک اور بحری جہازوں کے خلاف فوجی حملے قرار دیا گیا تھا۔
بقائی کے مطابق یہ کوئی ’’فوجی تصادم‘‘ نہیں بلکہ اس فوجی جارحیت کا تسلسل ہے جو ان کے بقول 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے مطابق دفاعِ مشروع کا استعمال ہے۔
انہوں نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ بقائی نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق درست اصطلاح ’’خلیج فارس‘‘ استعمال کی جانی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ