اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بسام الہاشم نے نیوز ویب سائٹ "العہد" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد "فریم ورک معاہدہ" اس وقت تک کوئی قانونی یا لازمی حیثیت نہیں رکھتا جب تک اسے لبنان کی کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری حاصل نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور عرب امن اقدام سمیت متعدد بین الاقوامی دستاویزات پہلے سے موجود ہیں، اس لیے نئے معاہدے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ اس سے لبنان کے اندر مزید سیاسی اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔
بسام الہاشم نے کہا کہ اسرائیل جنگ کے دوران اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور مزاحمت کی بازدارک صلاحیت کو ختم نہیں کر سکا، لیکن اس کے باوجود لبنانی حکومت نے مذاکرات میں انہی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایسے امتیازات دے دیے جو اسرائیل میدانِ جنگ میں حاصل نہیں کر سکا تھا۔
انہوں نے معاہدے کی بعض شقوں، خصوصاً "آزمائشی علاقوں" سے متعلق شق، کو لبنان کی قومی خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اسرائیل کو یہ غیر معمولی اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ لبنانی حکومت اور فوج کی کارکردگی کا جائزہ لے۔
لبنانی سیاسی رہنما نے خبردار کیا کہ لبنانی فوج کو مزاحمت کے مقابلے میں لانے کی کوئی بھی کوشش قومی وحدت اور ملک کے داخلی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کی مخالفت سیاسی اور قانونی ذرائع سے کی جانی چاہیے، اور تمام لبنانی سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھتے ہوئے، داخلی انتشار سے گریز کریں اور لبنان کے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
آپ کا تبصرہ