15 جون 2009 - 19:30

لندن میں شاتم رسول (ص) کے قتل کی خبریں گردش کررہی ہیں مگر حقیقت تا حال واضح نہیں ہوسکی ہے.

ابنا کی رپورٹ کے مطابق لندن میں کل سے افواہ گردش کررہی ہے کہ شاتم رسول (ص) اور توہیں آمیز کتاب «شیطانی آیات» کے مؤلف – جو امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے فتوے کے مطابق مرتد قرار پاکر واجب القتل ہوگیا ہے -  بم دھماکے میں ہلاک ہوگیا ہے.

یہ خبر انترنیٹ ویب لاگز اور ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے عام ہوگئی ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس حملے سے بھی بچ نکلا ہے مگر بعض دیگر افراد کا اصرار ہے کہ وہ اس دھماکے میں ہلاک ہوگیا ہے.

ملعون رشدی امام کے تاریخی فتوے کے بعد نہایت سخت مراحل سے گذر کر نکبت اور بدبختی کے ایام گزار رہا تھا اور کبھی بھی کسی عام محفل میں ظاہر نہیں ہوسکا تھا جبکہ مغرب میں اس کی حفاظت پر اب تک کروڑوں ڈالر خرچ کئے تھے.

اس سے قبل مصطفی مازح نامی ایک لبنانی مجاہد نے سلمان رشدی کو ہلاک کرنی کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا تھا اور دو ایرانی طالبعلم بھی اسی راہ میں شہید ہوئےتھے.

ان سب امور کے باوجود یہ خبر بہت اہم ہے مگر کسی بھی غیرجانبدار ذریعے نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے اور پھر اپریل کے ابتدائی ایام ہیں اور بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شاید یہ خبر اپریل فول کے طور پر اڑائی گئی ہے یا پھر شاید اس کا مقصد دنیا والوں کو یہ بتانا ہو کہ امام کا حکم برقرار ہے اور اس حکم کو فراموش نہیں کیا جاسکتا  اور یہ کہ سلمان رشدی مرتد اور واجب القتل ہے اور اسے اب بھی سکون نہیں ملنا چاہئے بلکہ جب بھی پبلک میں ظاہر ہوگا رسالت کے پروانے اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے.