بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار، لیری جانسن نے ایک گفتگو میں رہبر شہید سے وداع کے مراسمات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے اثرات کو ایران کی سرحدوں سے کہیں وسیع تر قرار دیا۔
ان کا خیال ہے کہ اس سطج کی تقریب ـ جس میں دنیا بھر سے رہنماؤں اور اہم شخصیات شریک ہوں ـ ایران کے بارے میں بہت سے حقائق کو نمایاں کرتی ہے؛ بشمول یہ کہ دنیا کی رائے عامہ ایران کو اس جنگ کے میدان کا فاتح سمجھتی ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے اس ملک پر مسلط کی تھی۔
ان کہا کہنا تھا کہ ایران میں قومی یکجہتی اور عوامی لام بندی کے، کم از کم پچھلی ایک صدی میں بے مثال ہے اور اس طاقت کو بیان کرتی ہے جو غیر معمولی اور تجزیہ کاروں کی کہی گئی بات سے کہیں بڑھ کر ہے۔
ایران کے شہید رہبر کی تشییع کی رسم، ایران کی طاقت کا اظہار، عالمی منزلت کا مظہر اور برتری کی عکاس ہے
لیری جانسن کے نقطہ نظر سے، ایران کے رہبر شہید کی تشییع کی تقریب ایک داخلی رسم اور سیاسی واقعے سے بالاتر ایک غیر معمولی جہتوں کا حامل جیو پولیٹیکل واقعہ ہے جو ایران کی طاقت، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی منزلت کا مظہر بن گیا ہے۔
وہ زور دے کر کہتے ہیں اس تقریب کی وسعت، اس کا کئی روزہ امتداد اور سو سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت، ـ جن میں روس، چین اور ہندوستان جیسی طاقتیں بھی شامل ہیں، ـ معاصر تاریخ میں نادر اور حتیٰ کہ بے مثال ہے۔
جانسن تاکید کرتے ہیں کہ سوگ کی کوئی دوسری تقریب، کم از کم پچھلی ایک صدی میں، عوام کی وسیع شرکت اور اہم بین الاقوامی کھلاڑیوں کی رسمی موجودگی کا ایسا امتزاج اپنے اندر نہیں رکھتی۔
جانسن اس واقعے کو بیانیوں کی جنگ کے نقطہ نظر سے بھی اہم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ایسی صورت حال میں جب مخالف مغربی ذرائع ابلاغ اس کی عظمت چھپانے کے لئے کوشاں ہیں، ایران میں غیر ملکی وفود کی وسیع موجودگی اس پیغام کی حامل ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اور سیاسی دباؤ کے باوجود، تنہا نہیں ہؤا اور ابھی تک اعلیٰ عوامی لام بندی، اور بین الاقوامی روابط کی کو فروغ دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
لہٰذا، جانسن کے خیال میں، یہ تقریب ایک رہبر کی تعظیم سے بالاتر، قومی یکجہتی کے اعادے کا ایک منظر اور بدلتی ہوئی عالمی ترتیب میں ایران کے وزن کا مظاہرہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ