24 جون 2026 - 15:58
مآخذ: ابنا
ایران نے ثابت کر دیا کہ آزاد قوموں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آذربائیجان میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین (PUIC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آذربائیجان میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین (PUIC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ آزاد اور خودمختار قوموں پر طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور گزر چکا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ "جنگِ رمضان" صرف ایک فوجی تصادم نہیں تھی بلکہ خطے کے تزویراتی توازن کو تبدیل کرنے اور ایک آزاد قوم پر دباؤ ڈالنے کی منظم کوشش تھی۔ ان کے مطابق اس جنگ کے منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ فوجی دباؤ، محاصرہ، نفسیاتی جنگ اور دیگر اقدامات کے ذریعے ایران کو پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن نتائج ان کے اندازوں کے برعکس نکلے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس جنگ نے ایران پر بھاری قیمت عائد کی، تاہم اس نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ عوامی مزاحمت اور استقامت جارح قوتوں کے تمام حساب کتاب کو ناکام بنا سکتی ہے۔

ایرانی اسپیکر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن دباؤ، ہتھیار ڈالنے یا ذلت سے نہیں بلکہ عزت، خودمختاری اور باہمی احترام سے حاصل ہوتا ہے۔

اپنی تقریر میں قالیباف نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران کو انسانی اور مادی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مسلح افواج کی مزاحمت اور عوام کی استقامت نے مخالفین کے مقاصد کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا تجربہ مسلم دنیا کے لیے یہ پیغام رکھتا ہے کہ قومی آزادی اور وقار کے تحفظ کے لیے خود اعتمادی، اتحاد اور اسلامی تعلیمات پر عمل ضروری ہے۔

قالیباف نے "اسلام آباد مفاہمت" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور استقامت کا ثمر ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کریں۔

انہوں نے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی احترام، عدم مداخلت، حسنِ ہمسائیگی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تمام اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خطے سے غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے کو ایک اہم تزویراتی ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ بیرونی طاقتوں کے فوجی اڈے خطے میں استحکام کے بجائے عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ایران ایسے امن کا حامی ہے جو اقوام کے حقوق، باہمی احترام، متوازن ذمہ داریوں اور جائز مفادات پر مبنی ہو، اور اس مقصد کے لیے مضبوط دفاع، قومی اتحاد اور مؤثر سفارت کاری کو ایک دوسرے کا تکملہ قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha