بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شیخ نعیم قاسم نے آج منگل کو ایام عاشورا کے سلسلے میں، لبنانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لبنان، مقاومت، فوج اور اس ملک کی تاریخ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس کا نام 'اسرائیل کے منصوبے کی شکست' کا مرحلہ ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ میدانِ جنگ نے اس فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
اگر شہداء اور ان میں سرفہرست سید الشہدائے امت امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، زخمی اور شہداء کے خاندان نہ ہوتے، تو ہم اس منصوبے کو شکست نہیں دے سکتے تھے۔
انھوں نے اس حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ حزب اللہ کو فوجی، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور انسانی طور پر ختم کرنے کے نام پر ایک بڑا منصوبہ نافذ العمل ہو رہا تھا؛ حزب اللہ اور پورے محور مقاومت کی تباہی کا منصوبہ، جو "عظیم تر اسرائیل" صہیونی پراجیک کا ذیلی منصوبہ تھا۔
ہم ایران کی ہمہ جہت حمایتوں کے شکرگزار ہیں
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: لبنان کی سرزمین کی آزادی کی واحد ضمانت، فوج، عوام اور حزب اللہ کی طرف سے قبضے کے خلاف مزاحمت ہے۔ اسرائیل میدان میں لڑنے کے قابل نہیں ہے، اور وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے گا، چاہے اس میں کچھ زیادہ ہی وقت کیوں نہ لگے۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہ حزب اللہ کی کوئی بھی میدانی شکست باعث بن سکتی تھی کہ اسرائیل اپنے "عظیم تر اسرائیل" کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا دے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی طرح ایک اچھا ضامن نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ وہ ہمیشہ اسرائیل کا حامی اور اس کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
ان کا کہنا تھا: امریکیوں نے حتیٰ کہ اسرائیل سے کہا تھا کہ [حزب اللہ کا] کام تمام کرو۔
انھوں نے مزید کہا: ہم نے 15 ماہ صبر کیا اور یہ صبر میدان کا حصہ تھا، پس یہ نہ سوچیں کہ صبر کا مطلب پسپائی تھی، بلکہ یہ خاموشی در حقیقت [جنگ کی] تیاری کے لئے تھا؛ کیونکہ ہم نے یقینی طور پر اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اس حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ 2 مارچ 2026ع وہی مناسب دن تھا جس کے لئے ہم نے تیاری کی تھی اور حزب اللہ نے اسی وقت اسرائیل کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صہیونی دشمن کو توقع تھی کہ مقاومت ایران کی حمایت نہیں کرے گی لیکن حزب اللہ پوری جرأت اور قوت کے ساتھ ایران کی حمایت کے لئے میدان جنگ میں کود پڑا۔
انھوں نے مزید کہا: ہم ایران پر بھروسہ کرتے ہوئے جنگ میں داخل ہوئے۔ ہم ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے شریف ترین اور باعزت ترین انسان ہیں۔
اسرائیل کو کسی بھی عنوان سے، سرزمین لبنان میں نہیں رہنا چاہئے
شیخ قاسم نے حالیہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے اس کی قیمت چکائی، لیکن انہوں نے استقامت کی اور ہم جو چاہتے ہیں وہ ہمارے حقوق، سرزمین اور خودمختاری ہے۔
انھوں نے لبنانی سرزمین سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: 'یہ انخلا ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق ہونا چاہئے؛ کیونکہ اسرائیل کے پاس لبنان کی سرزمین سے انخلا کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے نشاندہی کی کہ لبنان کی ایک بالشت زمین کو بھی کسی بھی عنوان کے تحت نہیں رکھا جا سکتا اور زمینی، بحری اور فضائی حملوں کو بند ہونا چاہئے، مقبوضہ علاقوں سے دشمن فوجیوں کو پسپا ہونا چاہئے، لبنانی فوج کو ان علاقوں میں تعینات ہونا چاہئے، قیدیوں کو واپس آنا چاہئے، عوام کو اپنی بستیوں میں واپس جانے کے لئے راستہ اور امکان دینا چاہئے اور تباہ شدہ آبادیوں کی تعمیرِ نو ہونی چاہئے۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہم باہمی سلامتی کے فریم ورک میں، جہاں تک ممکن ہو، لبنانی فوج کے ساتھ تعاون کریں گے، لیکن اسرائیل کو ہماری اندرونی معاہدوں میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ