23 جون 2026 - 08:30
حصۂ دوئم | بحرین میں عزائے حسینیؑ اور آل خلیفہ قبیلے کا غیر انسانی جبرا

بحرین میں سنہ 2026 کے ایامِ عاشورا، شعائر حسینیؑ پر پہلے سے کہیں زیادہ پابندیوں کے ساتھ ایک نئے دور کے ساتھ آئے ہیں: عاشورائی علائم جمع کرنے اور تقریبات کے منتظمین کو گرفتار کرنے سے لے کر خطیبوں، مرثیہ خوانوں اور انجمن ہائے عزاداری پر پابندیاں عائد کرنے تک؛ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آل خلیفہ حکومت نے وقتی پابندیوں سے آگے بڑھ کر ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے اور عاشورائی فضا کو کنٹرول اور ساختی طور پر امن و امان کا مسئلہ بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اگرچہ آل خلیفہ حکومت ہر سال محرم کے مہینے اور عاشورائے حسینیؑ کی مجالس کے آغاز کے ساتھ، ان تقریبات کے انعقاد کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے جابرانہ اقدامات کرتی ہے، لیکن اس سال کی مجالس و مراسمات علاقائی حالات اور ایران پر مسلط کردہ امریکی-صہیونی جنگ کی وجہ سے پچھلے سالوں سے بہت مختلف ہیں اور شعائرِ حسینیؑ اور شیعیان اہل بیتؑ کی اکثریتی آبادی کے مذہبی تشخص کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے اقدامات کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ پچھلے سالوں کے برعکس، جہاں خلیفی حکومت کی توجہ بنیادی طور پر مذہبی مظاہر کی کچھ صورتوں کو محدود کرنے، خطیبوں کو طلب کرنے یا مخصوص پابندیاں عائد کرنے پر مرکوز ہؤا کرتی تھی، اس سال کے میدانی شواہد، عاشورائی فضا کو کنٹرول کرنے، روکنے اور نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی تشکیل، کی نشاندہی کرتے ہیں۔

حصۂ دوئم:

اس سلسلے میں، الدراز میں مَوکبِ عزاداری اور مأتم انصار العدالۃ کے سربراہ "سلمان زائر علی" کی دوبارہ گرفتاری، شہر حمد کی عزاداری کمیٹی کے سربراہ "علی الغیض"، مأتم المرخ کے سربراہ "محمد یوسف"، مأتم النور کے سربراہ "محمد زین‌الدین"، حسینیؑ مرثیہ خوان "عبدالمنعم مرزوق" نیز عاشورائی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے متعدد نوجوانوں اور نوعمر بچوں کی گرفتاریاں، شعائرِ حسینیؑ کے منتظمین کے عوامی نیٹ ورکس پر دباؤ ڈالنے کی خلیفی کوششوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

نیز عاشورائی علائم اور نشانات سے مزین کپڑے فروخت کرنے یا مذہبی جھنڈے نصب کرنے کی وجہ سے افراد کی گرفتاری، پابندیوں کے دائرے کو عاشورا سے منسلک ثقافتی اور سماجی شعبوں تک پھیلانے کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسی سلسلے میں، مأتم السنابس ٹرسٹ کے سربراہ الحاج "حسن احمد جمعۃ المعلمہ"، کو مجلس عزاء، خلیفی سرکار کی طرف سے مقررہ وقت سے تقریباً 45 منٹ زیادہ تک جاری رکھنے پر گرفتار کر لیا گیا، اور یہ گرفتاری حکومت کے نقطہ نظر میں ایک اہم موڑ سمجھی جاتی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شعائرِ حسینیؑ کو محدود کرنے کی پالیسی مواد کی نگرانی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر، اصولی طور پر، تقریبات کے انعقاد کے عمل کے براہِ راست انتظام کے مرحلے تک پہنچ گئی ہے؛ یوں کہ حکومت خود کو مذہبی شعائر کے وقت، فریم ورک اور طریقہ کار کے تعین کا مرکز و مرجع سمجھتی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مجموعہ عاشورائی مراسمات کے تمام ارکان پر ساختی نگرانی مسلط کرنے اور مذہبی شعائر کے کیس کو ایک امن و امان اور سیکورٹی کا معاملہ بنانے کی کوشش سے پردہ اٹھتا ہے۔

عاشورائی فضا کی ترتیب اور اس کو امن و امان کا مسئلہ بنانے کی کوشش

عاشورا 2026 کے ایام میں ریکارڈ شدہ شواہد اور اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آل خلیفہ حکومت ملک کی عاشورائی فضا کو کنٹرول کرنے اور نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لئے ایک منظم منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ یہ عمل وقتی پابندیوں سے آگے بڑھ کر ثقافتی، سماجی اور مذہبی جہتوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں، 15 خطیبوں اور 5 حسینیؑ مرثیہ خوانوں کی سرگرمی ایک سال کے لئے ممنوع قرار دی گئی؛ بعض عاشورائی نعروں ـ پر ـ جن میں "هیهات منا الذلة" شامل ہے، ـ پابندی عائد کی گئی؛ عزاداری کے جلوسوں کا وقت کم کیا گیا؛ بعض مذہبی علماء کی تصاویر اور مذہبی جھنڈے نصب کرنے پر پابندی لگائی گئی اور متعدد علاقوں میں "رفع الراية" (پرچم اٹھانے) کی روایتی تقریب منسوخ کر دی گئی۔

اس سال کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ محرم کے مہینے سے پہلے پابندیوں کا آغاز ہو گیا۔ پرنٹنگ پریس، کتابوں کی دکانوں اور بعض خدماتی مراکز کو عاشورا سے متعلق تصاویر اور علامتوں کی چھپائی سے منع کر دیا گیا اور اس شعبے کے بعض کارکنان کو خصوصی حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ اقدامات خلیفی حکومت کے نقطہ نظر کو ردعمل سے ہٹ کر عاشورائی تقریبات پر پیشگی کنٹرول اور روک تھام کی طرف منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پابندیاں حراستی مراکز اور مذہبی اداروں تک بھی پھیلا دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق، حراستی مرکز "الحوض الجاف" میں تقریباً 200 سیاسی قیدیوں نے مذہبی شعائر کے انعقاد پر عائد پابندیوں اور مذہبی سہولیات کی کمی پر احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی ہے۔ اسی دوران، اوقاف اور مذہبی اداروں کے انتظام میں حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے شیعہ مذہبی اداروں کی آزادی کم کرنے کے بارے میں خدشات بڑھا دیئے ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مجموعہ شعائرِ حسینیؑ پر وسیع تر نگرانی مسلط کرنے اور عوامی فضا میں اس کی سماجی اور ثقافتی موجودگی کو محدود کرنے کی سرکاری کوششوں کو عیاں کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha