بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اگرچہ آل خلیفہ حکومت ہر سال محرم کے مہینے اور عاشورائے حسینیؑ کی مجالس کے آغاز کے ساتھ، ان تقریبات کے انعقاد کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے جابرانہ اقدامات کرتی ہے، لیکن اس سال کی مجالس و مراسمات علاقائی حالات اور ایران پر مسلط کردہ امریکی-صہیونی جنگ کی وجہ سے پچھلے سالوں سے بہت مختلف ہیں اور شعائرِ حسینیؑ اور شیعیان اہل بیتؑ کی اکثریتی آبادی کے مذہبی تشخص کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے اقدامات کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ پچھلے سالوں کے برعکس، جہاں خلیفی حکومت کی توجہ بنیادی طور پر مذہبی مظاہر کی کچھ صورتوں کو محدود کرنے، خطیبوں کو طلب کرنے یا مخصوص پابندیاں عائد کرنے پر مرکوز ہؤا کرتی تھی، اس سال کے میدانی شواہد، عاشورائی فضا کو کنٹرول کرنے، روکنے اور نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی تشکیل، کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ابوصیبع، ابوقوه، کرّباباد، النویدرات، العکر، البلاد القدیم، بنیجمرة، الدراز، عالی اور اکثریتی شیعہ آبادی کے دوسرے علاقوں میں مختلف مقامات پر جھنڈوں، کتبوں اور عاشورائی علامتوں کو جمع کرنے کی وسیع کارروائیاں، طلبیاں، گرفتاریاں، انتظامی پابندیاں اور عزاداری کی تقریبات کے انعقاد میں براہِ راست مداخلتیں ـ جن کا واضح طور پر "بحرین میں امریکیوں کی انسانی حقوق تنظیم" کی رپورٹ میں تذکرہ ہؤا ہے ـ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت عاشورا کو محض ایک مذہبی موقع کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سیکورٹی اور شناختی کیس کے طور پر دیکھتی ہے۔
میدانی جہات؛ عاشورائی علامتوں کے خلاف براہِ راست جنگ
محرم سے پہلے کے ہفتوں اور عاشورا کے ابتدائی دنوں میں بحرین کی سیکورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں جھنڈوں، سیاہ کپڑوں، کتبوں اور مذہبی علامتوں کو وسیع پیمانے پر جمع کرنے کی کارروائیاں کیں؛ ان اقدامات کو عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور بعض علاقوں میں احتجاجی اجتماعات اور سماجی ردعمل کا باعث بنے۔
بحرین کی انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، آل خلیفہ کی فورسز نے رہائشی علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس، صوتی بم اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز کی وسیع موجودگی، مظاہرین کا تعاقب اور گرفتاری اور مختلف علاقوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیکورٹی ادارہ اب بھی مذہبی شعائر کے معاملات کو اپنے نقطہ نظر سے امن و امان اور سیکورٹی فریم ورک میں دیکھتا ہے۔
مختلف علاقوں سے جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اگرچہ احتجاجات کا بڑا حصہ پرامن نوعیت کا تھا اور مذہبی علامتوں کو ہٹانے اور عزاداری کی تقریبات کو محدود کرنے کے ردعمل میں تشکیل پایا تھا، لیکن انہیں جبر کے ساتھ کچل دیا گیا۔
گرفتاریوں کا کیس اور شعائر کے براہِ راست انتظام کی طرف منتقلی
عاشورا 2026 کے موسم کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک، سیکورٹی اداروں کا عزاداری کے مراسمات کے انتظامی اور سماجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کرنا تھا؛ یوں کہ عزاداری کے مراکز کے سربراہان، عزاداری کی انجمنوں کے ذمہ داران، مرثیہ خوان، خادمینِ حسینیؑ اور مذہبی کارکنان طلبیوں، گرفتاریوں یا سیکورٹی پابندیوں کا نشانہ بنے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ