اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ ایران کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگرچہ رافیل گروسی اس وقت سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، تاہم ان کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایرانی وفد کے ساتھ کسی مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں۔
مذاکراتی ٹیم سے قریبی تعلق رکھنے والے اس ذریعے نے بتایا کہ امریکی فریق نے مذاکرات میں رافیل گروسی کی شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن ایران نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اسے قبول نہیں کیا۔
ذریعے نے مزید کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کی توجہ صرف باہمی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی شق 13 پر عمل درآمد اور بالخصوص شق 1 میں شامل نکات پر مرکوز ہے۔
ان نکات میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی، تیل سے متعلق پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اقتصادی امور کی پیش رفت شامل ہے۔
باخبر ذریعے کے مطابق، موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد انہی معاملات میں عملی پیش رفت حاصل کرنا ہے، جبکہ دیگر موضوعات اس وقت ایرانی وفد کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
آپ کا تبصرہ