ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ ایران کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آئندہ ایک یا دو دن کے دوران جنیوا یا کسی دوسرے مقام کے دورے کا کوئی پروگرام موجود نہیں، تاہم مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دیے جانے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔
ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے زور دے کر کہا کہ جنیوا مذاکرات میں تہران کی تجاویز بنیادی طور پر پابندیوں کے خاتمے اور امریکہ کے خدشات کو دور کرنے پر مرکوز ہیں۔
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے منگل کے روز کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ تہران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔