20 جون 2026 - 02:17
اسلام آباد مفاہمت نامے کا مکمل متن

اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامے کا اردو ترجمہ جو بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا نے فراہم کیا:

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ، مشترکہ طور پر اور نیک نیتی کے ساتھ، مورخہ 18 جون 2026ع‍ کو درج ذیل امور پر متفق ہوئے:

1۔ جنگ بندی 

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ان کے اتحادی موجودہ جنگ میں، اس مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ، تمام محاذوں، ـ بشمول لبنان ـ میں فوری اور دائمی طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا کوئی فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دیں گے۔ حتمی معاہدہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے دائمی خاتمے اور اس شق کے باقی دفعات کی توثیق کرے گا۔

2۔ خودمختاری کا احترام 

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ عہد کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی امور میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

3۔ حتمی معاہدہ 

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے عرصے میں، جو فریقین کی رضامندی سے قابلِ توسیع ہے، مذاکرات کرنے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کا عہد کرتے ہیں۔

4۔ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ 

اس مفاہمت نامے پر دستخط کے فوراً بعد، ریاستہائے متحدہ امریکہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مزاحمت کو ختم کرنا شروع کر دے گا، اور 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرے گا۔ اس مدت کے دوران، جہازوں کی آمدورفت اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے متعینہ جنگ سے پہلے کی ٹریفک کی تعداد کے مطابق ہوگی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ یہ بھی عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر اپنی افواج کو اسلامی جمہوریہ ایران کے گرد و نواح کے علاقے سے نکال لے گا۔

5۔ آبنائے ہرمز میں جہازرانی 

اس مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ،  اسلامی جمہوریہ ایران تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لئے، صرف 60 دنوں کے لئے بلا معاوضہ، خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک اور اس کے برعکس [یعنی بحیرہ عمان سے خلیج فارس تک]، اپنی زیادہ سے زیادہ کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوراً شروع، اور  اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، 30 دنوں کے اندر بحال ہو جائے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی انتظامیہ اور بحری خدمات کے تعین کے لئے، قابلِ اطلاق بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کے خودمختاری کے حقوق کے مطابق، گفتگو کرے گا اور خلیج فارس کی دیگر ساحلی ریاستوں کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال کرے گا۔

6۔ تعمیر نو کا فنڈ

ریاستہائے متحدہ امریکہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقائی شرکاء کے ساتھ،  اسلامی جمہوریہ ایران کی معاشی تعمیر نو اور ترقی کے لئے ایک قطعی پروگرام ـ جو فریقین کے لئے قابلِ قبول ہو، ـ کم از کم 300 ارب ڈالر کی فراہمی کے ساتھ ـ تیار کرتا ہے۔ اس پروگرام کے نفاذ کے طریقہ کار کو، ـ حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر، 60 دنوں کے اندر ـ حتمی شکل دی جائے گی۔ متعلقہ مالی لین دین کے لیے درکار تمام منظوریاں ، استثنائات اور اجازت نامے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے فراہم کئے جائیں گے۔

7۔ پابندیوں کا خاتمہ 

ریاستہائے متحدہ امریکہ عہد کرتا ہے کہ وہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیوں ـ بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے گورنرز بورڈ کی قراردادیں، اور امریکہ کی تمام یکطرفہ پابندیاں، خواہ وہ ابتدائی ہوں یا ثانوی ہو ـ حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر طے پانے والے ٹائم ٹیبل کے مطابق ختم کر دے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ مذکورہ بالا پابندیوں کے خاتمے کی بنیادی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر باہمی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں ان امور پر فوری طور پر غور کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔

8۔ ایٹمی پروگرام 

اسلامی جمہوریہ ایران دوبارہ تصدیق کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔  اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ ذخیرہ شدہ افزودہ مواد کی حیثیت کے مسئلے کو فریقین کے متفقہ طریقہ کار کے ذریعے اور شق7 میں درج ٹائم ٹیبل کے مطابق، کم از کم موقع (مقامِ وقوع) پر ترقیق (Dilution) کے طریقے سے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں حل کریں گے۔ نیز دونوں فریق افزودگی کے معاملے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری ضروریات سے متعلق فریقین کے دیگر متفقہ امور پر، ایک اطمینان بخش فریم ورک کی بنیاد پر، جو حتمی معاہدے میں طے پائے گا، بحث کرنے پر بھی اتفاق کرتے ہیں۔ حتمی معاہدہ اس شق کے مندرجات کی توثیق کرے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ مذکورہ بالا جوہری امور کی بنیادی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور مذاکرات میں، ان پر باہمی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے ان امور پر فوری طور پر غور کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔

9۔ عبوری صورتحال 

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے تک موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھیں گے؛  اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھے گا، اور امریکہ ایران کے خلاف کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گا اور خطے میں مزید فوجی فورس تعینات نہیں کرے گا۔

10۔ تیل کی برآمد 

امریکہ عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمت نامے پر دستخط کے فوری بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک، ایران کے خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ان کے مشتقات (derivatives)، کی برآمدات اور تمام متعلقہ خدمات ـ بشمول بینکنگ لین دین، انشورنس، نقل و حمل وغیرہ کے لئے محکمہ خزانہ کا استثنیٰ جاری کرے گا۔

11۔ منجمد اثاثے 

امریکہ عہد کرتا ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے محدود یا منجمد فنڈز اور اثاثوں کو اس مفاہمت نامے کے نفاذ کے ساتھ ہی مکمل طور پر استعمال کے لئے قابلِ دسترس بنائے گا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور  اسلامی جمہوریہ ایران مذاکرات کے دوران ان فنڈز کی آزادی سے متعلق طریقہ کار پر دوطرفہ طور پر اتفاق کریں گے۔ یہ فنڈز، خواہ وہ اصل اکاؤنٹ میں رکھے جائیں یا منتقل کئے جائیں،  اسلامی جمہوریہ ایران کے مرکزی بینک کی طرف سے مقرر کردہ کسی بھی حتمی مستفید (Ultimate Beneficiary) کو ادائیگی کے لئے مکمل طور پر قابلِ استعمال ہوں گے۔ امریکہ عہد کرتا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ضروری منظوریاں اور اجازت نامے جاری کرے گا۔

12۔ معاہدے پر نگرانی کا نظام 

امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران اتفاف کرتے ہیں کہ اس مفاہمت نامے کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں حتمی معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لئے ایک انتظامی طریقہ کار قائم کیا جائے گا۔

13۔ مذاکرات کا آغاز 

اس مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد، اور بشرطیکہ اس مفاہمت نامے کی شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عملدرآمد شروع ہو جائے اور ان اقدامات کا سلسلہ جاری رہے، اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ حتمی معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات صرف باقی ماندہ شقوق کے حوالے سے شروع کریں گے۔

14۔ اقوام متحدہ کی توثیق 

حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند کرنے والی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایران  کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ  کے ساتھ جنگ کے خاتمے کےلیے طے پانے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز اور ایک طاقتور ایران کا پیغام ہے کہ امن باہمی احترام کے سائے میں حاصل کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha