اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اسرائیل نے الخلیل (ہیبرون) کے مقدس مقام پر فلسطینیوں سے منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات چھینن لیے ہیں اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل اسموٹرچ نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع مسجدِ ابراہیمی سے متعلق منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات فلسطینی انتظامیہ سے لے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک تاریخی قرار دیا۔
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں واقع مسجد ابراہیمی اور اس سے ملحقہ مقدس مقام کے اطراف منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات فلسطینی حکام سے واپس لے لیے ہیں، جس کے نتیجے میں 1990 کی دہائی سے نافذ بعض معاہداتی انتظامات عملاً ختم ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل اسموٹرچ نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع مسجدِ ابراہیمی سے متعلق منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات فلسطینی انتظامیہ سے لے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے الخلیل کے قریب ایک نئی اسرائیلی بستی کے قیام کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک تاریخی قرار دیا۔
اسموٹرچ کے مطابق یہ فیصلہ مغربی کنارے میں اسرائیلی خودمختاری کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کی جانب پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف منصوبہ بندی کا معاملہ نہیں بلکہ عملی خودمختاری اور حکمرانی کے قیام کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو اپنی خودمختاری کے دائرے میں لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ فلسطینی قیادت اس علاقے کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا بنیادی حصہ قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے الخلیل کی سیاسی اور قانونی حیثیت پر تجاوز قرار دیا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور سابقہ معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ 1997 کے الخلیل معاہدے( Hebron Agreement) کے تحت فلسطینیوں کو پورے شہر میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات حاصل تھے، جن میں یہودیوں کے مقدس مقام Tomb of the Patriarchs اور اس سے متصل مسلمانوں کی مسجدِ ابراہیمی بھی شامل تھی۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اسرائیل نے الخلیل کے قدیم شہر کے وسیع علاقوں کو بند کر کے مسجدِ ابراہیمی پر اپنا کنٹرول مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ الخلیل کا قدیم شہر فلسطینی عالمی ثقافتی ورثے کی تسلیم شدہ جگہ ہے۔ اس تاریخی علاقے کے ان حصوں میں، جو اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہیں، دسیوں ہزار فلسطینیوں کے درمیان چند سو یہودی آبادکار بھی رہائش پذیر ہیں۔
مسجدِ ابراہیمی اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے مسجد کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ یہودیوں کی عبادت گاہ (سیناگاگ) پر مشتمل ہے، جہاں صرف یہودیوں کو داخلے کی اجازت حاصل ہے۔اسرائیل کے حالیہ فیصلے کو فلسطینی حلقے نہ صرف مذہبی اور تاریخی حیثیت کے حامل مقام پر کنٹرول بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے مستقبل میں الخلیل کی حیثیت تبدیل کرنے کی ایک نئی پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ