اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے محمد باقر قالیباف کے نام اپنے ایک تفصیلی پیغام میں لبنان، اس کے عوام اور مقاومت کی حمایت پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر صہیونی فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کے لیے ایران کی مضبوط اور فیصلہ کن حمایت ایسی خدمت ہے جس پر الفاظ میں شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق لبنان میں جنگ کے خاتمے کو ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی اور بنیادی شق کے طور پر شامل کیا گیا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ایران نے امریکی اور صہیونی جارحیت کا راستہ روکنے کی امید کو حقیقت میں بدل دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ ایران حق، مقاومت اور مستضعفین کا مددگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیگر ممالک بھی ایران کی پالیسی اختیار کرتے تو نہ امریکہ اس حد تک سرکشی کرتا اور نہ فلسطین اور القدس پر صہیونی قبضے کا بوجھ برقرار رہتا۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ایران نے لبنان، حزب اللہ اور مقاومت کو بہت کچھ دیا لیکن ان سے کبھی کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ ایران نے ہمیشہ لبنانی عوام کو اپنی سرزمین کی آزادی، معاشرے کی تعمیر اور مشکلات کے ازالے کے لیے مدد فراہم کی۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے مفادات سے بڑھ کر لبنان کی حمایت کی اور بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کے جواب میں صہیونی رژیم کو نشانہ بنا کر اس کے ممکنہ نتائج اور خطرات بھی قبول کیے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں واضح الفاظ میں کہا: "میں دوٹوک انداز میں کہتا ہوں کہ ایران عزت اور شرف کی علامت ہے۔"
شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ، اسلامی مقاومت، لبنان کے عوام، شہداء، زخمیوں اور قیدیوں کی جانب سے محمد باقر قالیباف اور ان کی مذاکراتی ٹیم، بالخصوص ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے درخواست کی کہ ان کے تشکر اور قدردانی کے جذبات رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ ای، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایرانی مسلح افواج، دانشوروں، سرکاری حکام اور پوری ایرانی قوم تک پہنچائے جائیں۔
پیغام کے اختتام پر شیخ نعیم قاسم نے ایرانی عوام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے مختلف شہروں میں عوام کو مقاومت اور اس کے حامیوں کی مدد کے لیے میدان میں موجود دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی وفادار قوم ہمیشہ قدردانی کی مستحق رہے گی۔
انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام دعا اور سلام کے کلمات کے ساتھ کیا۔
آپ کا تبصرہ