15 جون 2026 - 20:09
حصۂ دوئم | صدی کا جال؛ امریکی سلطنت اپنی قبر خود کھود رہی ہے

ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا ہے: امریکہ نیٹو کی ایک تہائی فضائی طاقت یورپ سے نکال رہا ہے تاکہ ایشیا میں ـ ایران کے ساتھ جنگ میں ـ جنگی طیاروں اور سازو سامان کی تباہی سے پیدا ہونے والی قلتوں کو پورا کر سکے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ معاشیات کے پروفیسر، ڈاکٹر مہدی منصوری بیدکانی نے ایک مضمون میں لکھا: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پڑھنے کو ملی؛ پچاس ایف-16 اور ایف-15 ای لڑاکا طیارے، 11 بحری جاسوسی طیارے۔ 8 ایئر ریفیولنگ طیارے، ایک میزائل داغنے والی آبدوز۔ ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک بمبار طیاروں کا ایک گروپ جو نیٹو کی فضائی اور بحری طاقت کا ایک تہائی حصہ تشکیل دے رہے تھے ـ اور یہ سب امریکہ فراہم کر رہا تھا، ـ اور اب یہ سب یورپ سے نکالا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار درست ہیں۔ عمل درآمد کا وقت: اس سے کہیں جلد جتنا یورپی تصور کر رہے ہیں۔

حصۂ دوئم:

بہرحال سب سے اہم خبر وہ رپورٹ تھی جو گذشتہ بدھ کو سی این این نے شائع کی۔ اس رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج نے مئی کے آخر میں ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے لئے ایک خفیہ اور انتہائی فوری منصوبہ تیار کیا تھا۔ مقصد ایران کا افزودہ یورینیم چرانا تھا؛ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم جس کی افزودگی 60 فیصد ہے۔ وہ مواد جس کے بارے میں بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 ایٹم بم بنانے کے لئے کافی ہے۔ امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈن کین نے برسلز میں نیٹو کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس چھوڑ کر خود کو فلوریڈا پہنچایا تاکہ اس آپریشن کی حتمی رپورٹ حاصل کر سکے۔ امریکی اسپیشل فورسز کے لئے آپریشن کا خطرہ 'زیادہ سے انتہائی زیادہ' سطح پر جانچا گیا تھا۔ یورینیم پہاڑوں کے نیچے اور گہری سرنگوں میں دفن تھا۔ ایک فوجی ذریعے نے سی این این کو بتایا: ان سرنگوں اور بیرلوں کے درمیان سے گزرنا ناقابل یقین حد تک مشکل ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ "ہمیں عملاً خطے میں ایک عظیم فوجی موجودگی قائم کرنا ہوگی۔ یعنی ہمیں ایران پر حملہ کرنا ہوگا۔" لیکن ٹرمپ نے ـ امریکی افواج کے بھاری جانی نقصان، جنگ کی طوالت، اور عالمی معیشت کی بے ترتیبی کے بارے میں انتباہات سننے کے بعد ـ آپریشن روکنے کا حکم دے دیا۔ (2)

ان خبروں کو اکٹھا رکھیں۔ ایک واحد تصویر سامنے آتی ہے: امریکہ اندر ہی اندر سے، دھیرے دھیرے، تباہ ہو رہا ہے، اور اسی وقت وہ اپنی افواج کو ایشیا میں ایک بڑے تصادم کے لئے از سرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔ یورپ، اسی تشکیل نو کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔

معاشیات میں، موقع کی لاگت (Opportunity cost) یعنی کہ ہر انتخاب کی قیمت، وہ بہترین آپشن ہے جو آپ کھو دیتے ہیں۔ یورپ نے اسی سال کے لئے فلاحی سماج، صحت کا بجٹ، مفت تعلیم، اور مشرق و مغرب کے ساتھ آزاد تجارت کا انتخاب کیا۔ اس کے مقابلے میں، اس نے سلامتی امریکہ سے ادھار لے لی [برآمدی سلامتی جو غیر یقینی ہؤا کرتی ہے]۔ یورپ نے اس انتخاب کی لاگت اسٹراٹیجک آزادی کا موقع کھو کر ادا کی۔ اب بل آ گیا ہے۔ لیکن امریکہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ "یورپ میں اتنے زیادہ جنگی طیارے رکھنے کے موقع کی لاگت"، "ایشیا پر عدم توجہ" ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم نے حساب لگایا ہے: یورپ میں جو ڈالر خرچ ہوگا، وہ چین کو روکنے کے لیے ایک ڈالر کم ہوگا۔ یہ حساب کتابی لحاظ سے درست ہے۔ لیکن اسٹراٹیجک لحاظ سے، یہ تباہی ہے۔

تھوسی ڈائڈز کا جال (Thucydides Trap) وہ صورت حال ہے جہاں ایک غالب طاقت، ابھرتے ہوئے حریف کے خوف سے، جلد بازی میں ردِ عمل ظاہر کرتی ہے اور بالآخر اپنے زوال کو تیزتر کر دیتی ہے۔ ایتھنز، اسپارٹا کے مقابلے میں؛ ہسپانیہ، انگلستان کے مقابلے میں؛ برطانیہ امریکہ کے مقابلے میں۔ ٹرمپ ایک بار نہیں، بلکہ تین بار اس جال میں پھنس چکا ہے:

1۔ چین پر لا حاصل محاصل (ٹیرفس) عائد کرنا؛ جس نے بیجنگ کو خود کفالت کی طرف دھکیل دیا۔

2۔ ایران پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں؛ جس نے تہران کو چین اور روس کی طرف مستحکم اور پائیدار اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر مائل کر دیا۔

3۔ نیٹو سے بتدریج جدائی؛ جو یورپ کو مجبور کرے گی کہ وہ یا تو خود مختار سلامتی کی تلاش میں نکل جائے، یا مشرق کی طرف جھک جائے۔ (3)

لیکن ٹرمپ کی غلطی صرف 'تاریخ دہرانا' نہیں ہے۔ وہ نقشہ غلط پڑھ رہا ہے۔ آج کی دنیا اب نوے کی دہائی کی دنیا نہیں رہی۔ شنگھائی تعاون تنظیم آبادی اور جغرافیائی وسعت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑا سلامتی-اقتصادی معاہدہ ہے۔

برکس [BRICS)، جس میں ایران، امارات، سعودیہ، مصر اور ایتھوپیا شامل ہو چکے ہیں، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کے 35 فیصد سے زیادہ حصے کا مالک ہے۔ اور اس سال ڈیوس (Davos کے عالمی اقتصادی فورم World Economic Forum) نے واضح طور پر کثیر قطبی ہوتی ہوئی دنیا اور بلاکس کی علیحدگی کی سات فیصدی لاگت کے بارے میں خبردار کیا۔

Trap of the Century | The American Empire is Digging Its Own Grave.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔ سی این این کی یہ رپورٹ درحقیقت جنوبی اصفہان میں ایک ناکام امریکی زمینی آپریشن کا ماجرا چھپانے کی ناکام کوشش تھی۔ امریکہ نے یہ کاروائی گرے ہوئے طیارے کے پائلٹ کی جان بچانے کے بہانے انجام دی جو درجنوں جہاز اور ہیلی کاپٹر کھو دینے کے بعد یہ کاروائی ناکام ہوئی۔ اس تحریر کے ذیل میں دیئے گئے "طبس 2 کے عنوان سے ـ لنکس اس جھوٹی رپورٹ کو بخوبی عیاں کر دیتے ہیں۔

نیٹو سے جدائی کے بارے میں کچھ مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شاید یہ ترکیہ ( پر امریکی-اسرائیلی جارحیت کی تمہید ہو اور چونکہ نیٹو کا رکن ملک دوسرے نیٹو رکن پر حملہ نہیں کر سکتا، امریکہ نیٹو سے الگ ہوکر، ترکیہ پر حملے میں صہیونی ریاست کا ہاتھ بٹا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha