بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گذشتہ ہفتے رائٹرز نے پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اسٹارلنک نے ایران کی سرزمین پر امریکی جارحیت کے دوران امریکی فوج کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کیا ہے، اور سینٹ کام نے اپنے ڈرونز کی رہنمائی کے لئے اسٹارلنک ٹرمینلز استعمال کئے ہیں۔
اس سے قبل امریکی محکمہ جنگ نے اسپیس ایکس (اسٹارلنک کی مالک کمپنی) کے ساتھ کئی اربوں ڈالر کے نئے معاہدے بھی کئے تاکہ یہ کمپنی امریکی جنگی مواصلاتی نیٹ ورک کی اگلی نسلِ کی ترقی میں حصہ لے۔ یہ نیٹ ورک امریکی ہتھیاروں کے نظام، سینسرز اور جنگی انفراسٹرکچر کو حقیقی وقت میں باہم منسلک کرتا ہے۔
اس سے قبل، اس کمپنی نے 2023 سے پینٹاگون کے لیے اسٹارشیلڈ کے نام سے ایک علیحدہ سروس شروع کی تھی۔ یہ سروس اسٹارلنک کے تجارتی سیٹلائٹس اور ایک علیحدہ سیٹلائٹ جھرمٹ سے منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو پینٹاگون کے لئے ایک خفیہ شدہ (Coded) سیٹلائٹ مواصلاتی نیٹ ورک فراہم کرتی ہے۔

ایران کی سرزمین پر فوجی جارحیت میں اسپیس ایکس کی اس وسیع شرکت کی وجہ سے ـ اس کمپنی اور خطے میں اس کے شراکت داروں کے مفادات کو ایران کے فوجی حملوں کے جائز اہداف کے بینک (Target Bank) میں شامل کرنے کے لئے زیرِ غور لایا گیا ہے چنانچہ ایران کی مسلح افواج اسپیس ایکس کے انفراسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے ڈرونز کے دوبارہ حملے کا خطرہ ختم کرنے کے لئے ان کمپنیوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
خطے کے ممالک میں کون سی کمپنیاں اسپیس ایکس کی شریک تصور کی جاتی ہیں؟

* ایلکام انٹرنیشنل (Elcome International) - دبئی:
یہ بحری الیکٹرانکس کے شعبے میں دبئی میں قائم کمپنی، سنہ 2023ع سے اسٹارلنک آلات کے مجاز تقسیم کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس نے دبئی میں بحری گاہکوں کی معاونت کے لئے اسٹارلنک نیٹ ورک آپریشن سینٹر قائم کیا ہے۔ اس تعاون میں تجارتی جہازوں، تیل اور گیس کے پلیٹ فارمز اور لگژری کشتیوں کو تیز رفتار سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے لیس کرنا شامل ہے۔

الغانم انڈسٹریز، (Alghanim Industries) - کویت:
الغانم انڈسٹریز مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سب سے بڑی نجی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کمپنی نے مئی 2025 میں اسٹارلنک کے ساتھ معاہدہ کیا اور Sama X کے نام سے ایک نیا کاروبار شروع کیا تاکہ یہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، ہندوستان، ترکی اور پاکستان میں اسٹارلنک کے مجاز عالمی نمائندے کے طور پر کام کرے۔ الغانم انڈسٹریز کو اس معاہدے کے تحت، اسٹارلنک کی لو ارتھ آربیٹ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لئے ایک رسمی عالمی چینل تسلیم کیا جاتا ہے۔

جنوری 2026ع کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحرین نے اپنے ملکی ریگولیٹری ادارہ برائے مواصلات کی جانب سے لائسنس جاری کرتے ہوئے اسٹارلنک خدمات کے آغاز کی اجازت دے دی۔ یہ خدمات اسٹارلنک کے مجاز عالمی سیلز ایجنٹ کویت کے Sama X کے ذریعے، پورے بحرین میں (خشکی اور قومی پانیوں دونوں میں) اسٹارلنک کے لو ارتھ آربیٹ سیٹلائٹ جھرمٹ کا استعمال کرتے ہوئے فراہم کی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ