4 جون 2026 - 03:54
حصۂ اول | ایک پیشین گوئی جو پوری ہوئی؛ 'تاریخ کی صحیح سمت' کا پتہ ایک خط میں"

امریکی نوجوانوں اور طلباء کے نام رہبر شہید کا خط کی اشاعت کے سالگرہ کے موقع پر، ریاستہائے متحدہ میں پچھلے دو سالوں کے دوران پیش آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ اس ملک کی نوجوان نسل کی بے مثال بیداری کو ظاہر کرتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آزاد میڈیا میں فیلڈ رپورٹس اور فاش ہونے والی دستاویزات کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی طلباء، انسانی حقوق کے دوہرے معیار، جنگجو لابیوں کے اثر و رسوخ اور منظم سنسرشپ کو سمجھتے ہوئے، بالکل اسی بلاواسطہ حقیقت شناسی تک پہنچ گئے ہیں جس کو امام شہید خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے اپنے پیغام میں 'تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہونے' سے تعبیر کیا تھا۔

آزاد فکری کی دعوت؛ ایک عظیم بیداری کی چنگاری

امریکی نوجوانوں کے نام رہبر انقلاب کا خط ایسے موقع پر جاری کیا گیا جب امریکہ کی ممتاز یونیورسٹیوں میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے عروج پر تھے۔ اس خط کا مرکزی پیغام، نوجوان نسل کو مغربی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے بالاتر ہوکر حقیقت کی آزادانہ تلاش کی دعوت سے عبارت تھا۔ پچھلے مہینوں کی دستاویزی خبروں پر ایک نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ آج کے امریکی نوجوان نے بالکل استکباری پالیسیوں کی حقیقی تصویر انہی پروپیگنڈوں کی بھول بھلیوں سے حاصل کر لی ہے۔  یہ بیداری چار بنیادی محوروں میں قابلِ دریافت ہے:

1۔ انسانی حقوق کی حقیقت بین الاقوامی اداروں کے سامنے طشت از بام

گوکہ واشنگٹن نے دہائیوں تک خود کو انسانی حقوق کا نجات دہندہ متعارف کرایا تھا، لیکن امریکی حکومت کے حالیہ طرز عمل نے اس ملک کے نوجوانوں کے لئے ایک گہرا اخلاقی بحران پیدا کر دیا۔

روئٹرز نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ میں کہا کہ کہ امریکی ایوان نمائندگان نے انتقامی کارروائی کے طور پر، اسرائیلی عہدیداروں کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کی بنا پر، ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے عہدیداروں پر پابندیاں لگانے کا بل منظور کر لیا ہے۔ اسی دوران، گارڈین اخبار نے انکشاف کیا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے غزہ میں جنگی جرائم کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں کی رپورٹوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا تاکہ ہتھیاروں کی ترسیل کا راستہ بند نہ ہونے پائے۔ امریکی نوجوان یہ سمجھ گیا کہ 'انسانی حقوق' صرف اس وقت تک اہمیت رکھتے ہیں جب تک وہ امریکی 'نیز اسرائیلی' مفادات کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

2۔ خون کی سوداگری؛ جمہوریت پر لابیوں اور ہتھیاروں کی سوداگر تنظیموں کا بھاری سایہ

امریکہ میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور طلباء نے اپنے معاشی بحرانوں اور طلباء کے بھاری قرضوں کا موازنہ اپنے ٹیکس میں سے نکلنے والی اربوں ڈالر کی رقم کو ہتھیاروں کے سوداگروں کی جیبوں میں جاتے ہوئے کیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کرنے کے ساتھ ہی 'لاک ہیڈ مارٹن' جیسی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہؤا۔

نیویارک ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، طاقتور یہودی-اسرائیلی لابی 'آئی پیک' (American Israel Public Affairs Committee [AIPAC]) لابی نے صرف ایک حلقہ انتخاب میں 14.5 ملین ڈالر کی غیر معمولی رقم خرچ کرکے غزہ میں اسرائیلی-امریکی جنگی جرائم پر تنقید کرنے والے نمائندے (جمال بومن) کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔ ان شواہد نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا سیاسی ڈھانچہ عوام کے ووٹ سے زیادہ آئی پیک جیسی دولت مند لابیوں کا مقروض ہے۔

حصۂ اول | ایک پیشین گوئی جو پوری ہوئی؛ 'تاریخ کی صحیح سمت' کا پتہ ایک خط میں"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مرتضی شفقی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha